021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بچے کی پرورش کا حق
71825طلاق کے احکامبچوں کی پرورش کے مسائل

سوال

میری شادی سن ۲۰۱۹ء کو فرحان بن سہراب سے ہوئی،شادی کے چھ ماہ تک ازدواجی زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی اس کے بعد میرے شوہر نے مجھے تنگ کرنا شروع کردیا۔ایک سال بعد میرابیٹا پیداہوا اوراس کے بعد میرے شوہر نے مجھے گھر سے نکال دیا،اب سات مہینوں سے میں اپنے میکے میں ہوں میراشوہرنہ خود آتا ہے اور نہ میرا اور بچے کا نان نفقہ دے رہا ہے۔برادری والوں نے بارہا صلح کی کوشش کی مگر میرا شوہر کسی صورت مجھے رکھنے کو تیارنہیں اور طلاق دینے پر بضد ہے۔نکاح کے وقت میرا مہر ایک لاکھ روپے مقرر ہوا تھا جو کہ انہوں نے ادا نہیں کیا اور نا ہی مقررشدہ نان نفقہ ادا کررہے ہیں جوکہ نکاح نامہ کے مطابق تین ہزار روپے ماہانہ ہے۔

سوال:بچے کی عمر سات ماہ ہے،وہ کس کے پاس رہے گا؟

o

 سات سال کی عمر تک بچے کی پرورش کی زیادہ حقدار ماں ہی ہوتی ہے الا یہ کہ وہ کسی غیر محرم سے نکاح کرلے تو اس کا پرورش کا حق ساقط ہوجاتا ہے،اس لیے مذکورہ صورت میں بچہ ماں کے ہی پاس رہے گا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 541)
أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 565)
(و) الحاضنة (يسقط حقها بنكاح غير محرمه) أي الصغير، وكذا بسكناها عند المبغضين له؛ لما في القنية: لو تزوجت الأم بآخر فأمسكته أم الأم في بيت الراب فللأب أخذه.

معاذ احمد بن جاوید کاظم 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

۲۲ جمادی الاولی ۱۴۴۳ ھ 

n

مجیب

معاذ احمد بن جاوید کاظم

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔