| 71727 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میرا ایک دوست ہے ۔وہ پیٹرول کا کام کرتا ہے اس طور پر کہ اس نے اپنی پی ایس او کے پاس رجسٹریشن کروائی ہے ، جس کے تحت وہ ان سے پیٹرول خریدنے کا اہل ہے۔وہ ایسا کرتا ہے کہ مختلف پیٹرول اسٹیشن سے آرڈر لیتا ہے اور کمپنی سے ٹینکر خرید لیتا ہےاور کچھ نفع رکھ کر ان اسٹیشن مالکان کو فروخت کردیتا ہے ۔اس میں ہوتا یہ ہےکہ کمپنی صرف نقد پر ٹینکر دیتی ہے جبکہ پمپ مالکان اس کوادائیگی ایک سے دو ہفتے میں کرتے ہیں ۔ میرے دوست کا کہنا ہےکہ تم میرے ساتھ انویسٹمنٹ کرو بلکل نقصان نہیں ہوگا۔ اس طور پر کہ تم اپنے اکاؤنٹ میں دو سے چار لاکھ روپے رکھو جیسے ہی مجھے آرڈر ملا کریگا میں تمہیں فون کرکے رقم پیٹرول کمپنی میں منتقل کرنے کا کہہ دیا کرونگاپھر ایک سے دو ہفتہ میں جب پمپ مالکان پیسے ادا کریں گے تو جو نفع ہوگا وہ آدھا آدھا ہوجائے گا۔ اس کا کہنا ہےکہ کمپنی ہمیں پیٹرول سستا دیتی ہے اور پمپ مالکان اگر براہ ِراست بھی خریدیں تو ان کومہنگا ملتا ہے اس لیے ہمارا نفع یقینی ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ معاملہ سود میں تو نہیں آتا کہ ایک سے دو ہفتہ کے لیے رقم دینا اورپھر اس میں نفع لینا ،اسی طرح اس پر کوئی نقصان بھی نہیں ہورہا ہے۔برائے کرم شریعت کی رو سے جواب عنایت فرمائیں۔
تنقیح: اگر پیٹرول کی ترسیل کے دمیان کوئی حادثہ رونما ہوجائے یا پیٹرول پمپ والوں سے پیسوں کی ریکوری نہ ہوسکے تو نقصان رب المال (سرمایہ دینے والے) کا ہوگا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کاروبار کی صورتِ مسئولہ سود ی معاملہ نہیں بلکہ عقد ِمضاربت ہے ۔شرکت و مضاربت میں حقیقی نقصان کا ہونا لازم نہیں ،صرف نقصان کا امکان بھی کافی ہے۔لہذامضارب اگر کاروبار کا ایک ایسا محتاط طریقہ پیش کرے جس میں نقصان نہ ہونے کے برابرہولیکن بہرحال نقصان کا امکان موجود ہوجیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے اور رب المال ممکنہ نقصان اٹھانے کا پابند بھی ہوتوایسا عقد جائز ہوتا ہے ، لیکن اگر رب المال کے لئے ممکنہ نقصان سے براءت کی شرط لگائی جائے تو یہ قرض پر نفع لینا ہے اور سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔
صورتِ مسئولہ عقدِ مضاربت ہونے کی وجہ سے ضروری ہے کہ رب المال(انسویسٹر) راس المال(پیسے) مضارب کے سپرد کردے ،اگرپیسے آپ اپنے اکاؤنٹ میں رکھیں گے تو مضاربت فاسد ہوجائے گی لہذا اس عقد کو شرعاً درست کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پیسےآپ اپنے اکاؤنٹ میں رکھنے کے بجائےاپنے دوست کے اکاؤنٹ میں رکھیں تاکہ وہ اسے بروقت اپنی مرضی سےاستعمال کرسکے ۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (4/ 285)
فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر حتى لو شرط الربح كله لرب المال كان بضاعة ولو شرط كله للمضارب كان قرضا هكذا في الكافي.
(حكمها) فإنه أولا أمين وعند الشروع في العمل وكيل وإذا ربح فهو شريك وإذا فسدت فهو أجير وإذا خالف فهو غاصب.
درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 311)
(وشرطها ستة) الأول (كون رأس المال من الأثمان ...(و) الثالث (تسليمه إلى المضارب) حتى لا يبقى لرب المال فيه يد لأن المال يكون أمانة عنده فلا يتم إلا بالتسليم إليه كالوديعة بخلاف
الشركة لأن المال في المضاربة من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر فلا بد أن يخلص المال للعامل ليتمكن من التصرف فيه ...(فشرط العمل على رب المال يفسدها) أي إن شرطا أن يعمل
المالك مع المضارب فسدت المضاربة لأن هذا شرط يمنع من تسليم المال إلى المضارب والتخلية بين المال والمضارب شرط صحة العقد فما يأباه كان مفسدا ضرورة.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 175)
والأصل فيه أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن كل قرض جر نفعا»
البناية شرح الهداية (12/ 233)
عن فضالة بن عبيد أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا.
مصطفی جمال
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
۳۰/۶/۱۴۴۲
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


