03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شیزوفرینیا (schizophrenia)کے مریض کا اپنی خاص کیفیت میں طلاق دینا
71723طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

سوال:اکتوبر 2018کو میرا جس بندے سے رشتہ ہوا وہ پاکستا ن نیوی میں لیفٹینٹ   کے عہدے پر فائز تھے،منگنی سے دو دن قبل ان کی والدہ نے مطلع کیا کہ یہ لسانی تعصب کی وجہ سے استعفی دے رہے ہیں لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس وقت ان کو پی این ایس شفاء میں 21دن کیلے زیر علاج رکھا گیا اور شیزوفرینیا(schizophrenia) کی تشخیص کے بعد انہیں میڈیکل گراؤنڈ پر ریٹائر کردیا گیا ۔ان کے گھر والوں نے ان کا مرض نہ خود قبول کیا اور نہ ہمیں بتایا۔ میں نے بحیثیت ِڈاکٹرشادی کے پہلے مہینے ہی سمجھ لیا تھا کہ یہ کس مسئلے کا شکار ہیں اور وقت کے ساتھ علامتیں سامنے آرہی تھی ۔بالآخر 10دسمبر 2020کو ان جھگڑوں کی وجہ سے مجھے میری سانس نے گھر سے نکلنے کا کہا اور کیونکہ میرے شوہر کو بھی ان کے والد کی طرف سے منفی رویوں کا سامنا تھا لہذا وہ بھی میرےساتھ میری والدہ کے گھر آگئے،ایک مہینے ہم والدہ کے گھر پر رہے اس دوران ہمارے درمیان کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوااور نہ ہی یہ دورے کی کیفیت میں گئے،جس دن ہمیں نئے گھر میں شفٹ ہونا تھااس سے ایک دن پہلے یہ اپنے والدین کے ہاں گئے کیونکہ ان کے اے ٹی ایم سمیت سارے ڈاکومنٹ ان کے والد نے ضبط کرلئے تھے،یہ وہاں سے واپس آئے اور بحث شروع ہوئی اور یہ پھر اس کیفیت میں گئے جسے ماہرین ِ  نفسیاتی پن کہتے  ہیں  اور تین دفعہ صراحۃًطلاق کا لفظ استعمال کیا پھر یہ چلے گئے۔اس دن کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔

میں ہی چوبیس گھنٹے ان کے ساتھ رہتی تھی تو میری نظر میں انہوں نے شیزوفرینیا کے دورے کی کیفیت میں طلاق دی تھی۔ان کی دو حالتیں تھیں ایک نارمل غصہ اور دوسرا (paranoid psychosis)نفسیاتی پن  ۔میں اپنی سمجھ کے مطابق طلاق دیتے وقت ان کودورے میں ہی سمجھتی ہوں۔ فی الحال میرے شوہر رجوع چاہتے ہیں اور ان کے گھر والے ان کے علاج پر بھی رضا مند ہیں ۔ان تمام تفصیلات کی روشنی میں مجھ پر اس معاملے کو واضح کردیں کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

تنقیح: شوہر کا کہنا ہے کہ ATMکارڈ کو اپنے والدین کے گھر چھوڑنے پر میرا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا اور اسی جھگڑے کے دوران میں نے ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیں طلاق دیتے وقت مجھے طلاق دینے کا ادراک تھا کہ میں طلاق دے رہا ہوں لیکن مجھے  اپنی بیوی پر غصہ اتنا شدید تھا کہ وہ میرے اختیار میں نہیں تھا اور پھر جب  بیوی نے دوسرے کمرے میں جاکردروازہ بند کردیا تو پھر دروازےکے باہر سے  بھی 3بار طلاق دے  دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

موصوف کو ایک معتبر ادارے  پی این ایس شفاء نے شیزوفرینیا کا مریض ٹہرایا ہے لیکن اس مرض کی شدت میں کمی زیادتی کے اعتبار سے بہت سے درجات ہیں ۔شیزوفرینیا کے بعض مریض ایسے ہوتے ہیں جو دورے کی حالت میں اتنے شدید خوف دہ اور وہمی ہوجاتے ہیں کہ انہیں حقیقت کا ادراک کرنا مشکل ہوجاتا ہےاور اسی وہم اور خوف میں آکر بہت سے فیصلے کرتے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شیزوفرینیا کامریض نہ اپنا علاج کروانے ڈاکڑ کے پاس جانے کو تیار ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے مرض کا اعتراف کرتا ہے،اور اس  مریض کے لئے اپنی ملازمت اور رشتے نبھانا مشکل ہوجاتا ہے۔

لہذا اگرشوہر نے اپنی مخصوص دورے کی  حالت میں یہ طلاق دی ہے جیسا کہ فریقین نے سوال میں بیان کیا ہے کہ نارمل غصہ نہیں تھا بلکہ نفسیاتی پن (paranoid psychosis   )اور غیر اختیاری غصہ میں طلاق دی ہے  تو طلاق واقع نہیں  ہوئی ہے ،نکاح برقرار ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 281)

«كل الطلاق واقع إلا طلاق المعتوه والمغلوب على عقله»

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 33)

 لقوله - عليه الصلاة والسلام - «كل الطلاق جائز إلا طلاق الصبي والمجنون» قوله (ولا يقع طلاق الصبي والمجنون) ؛ لأنه ليس لهما قول صحيح، وكذا المعتوه لا يقع طلاقه أيضا، وهو من

كان مختلط الكلام بعض كلامه مثل كلام العقلاء وبعضه مثل كلام المجانين وهذا إذا كان في حال العته أما في حالة الإفاقة فالصحيح أنه واقع.

حاشية ابن عابدين (3/ 244):

والذي يظهر لي أن كلاً من المدهوش والغضبان لا يلزم فيه أن يكون بحيث لا يعلم ما يقول بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل كما هو المفتى به في السكران على ما مر، ولا ينافيه

تعريف الدهش بذهاب العقل فإن الجنون فنون، ولذا فسره في البحر باختلال العقل و أدخل فيه العته والبرسام والإغماء والدهش، ويؤيد ما قلنا بعضهم العاقل من يستقيم كلامه

وأفعاله إلا نادرا والمجنون ضده . وأيضاً فإن بعض المجانين يعرف ما يقول ويريده ويذكر ما يشهد الجاهل به بأن عاقل ثم يظهر منه في مجلسه ما ينافيه فإذا كان المجنون حقيقة قد يعرف ما

يقول ويقصده فغيره بالأولى فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة

فاجأته فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها  لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

۳۰/۶/۱۴۴۲

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب