03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھر کے ذمہ دار بھائی کا والد کی وراثت میں اپنے حصہ سے زیادہ کا مطالبہ کرنا
71984میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا تیسرے نمبر والے بھائی عبد الاحد کو بھی اتنا  ہی حق ملے گا ،جبکہ اس نے 4سال باہر ملک میں محنت کرکےساری رقم والد صاحب کو بھیجی؟

تنقیح:  تمام بھائی اپنی اپنی حیثیت سے والد صاحب کو خرچ بھیجتے تھے،لیکن یہ بھائی ذاتی اخراجات کے علاوہ تمام آمدن والد صاحب کو بھیج دیتے تھے۔

 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بھائی نے والد صاحب کو جو بھی رقم بھیجی تھی وہ والد صاحب کو ہبہ تھی،حسن ِ نیت  سے خرچ کا انہیں ثوات ملےگا،لیکن وراثت میں صرف اسی کے حق دار ہیں جو دیگر ورثاء کی موجودگی میں  شرعی حق بنتا ہے ،البتہ احسان کاتقاضہ  یہ ہے کہ دیگر ورثاء  اپنے اپنے حصے سےکچھ رقم اس بھائی کے لئے ہبہ کر   دیں۔

حوالہ جات

قال الله تعالى [الإسراء : 23 ، 24]

{وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَاتَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (23) وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا} َ

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 234)

إذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين لقوله تعالى{يوصيكم الله في أولادكم للذكرمثل حظ الأنثيين} [النساء: 11]۔

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

۳۰/۶/۱۴۴۲

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب