| 76542 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتےہیں علمائےدین متین بیچ اس مسئلہ میں ؟
زید (فرضی نام)کی شادی ہمراہ مسماۃ رحمت حسب شرع محمدی نکاح ہوا،مسماۃ رحمت کافی عرصہ زید کےگھرآبادرہی،پھربغیر طلاق کےدوسرےآدمی کےساتھ چلی گئی اوراس کےگھر آبادہوگئی،دوسرےآدمی کےنطفہ اوررحمت کےبطن سےتین بچےہوئےپیداہوئےجوزندہ بقیدحیات موجود ہیں،جبکہ زید سےمسماۃ رحمت بی بی کی کوئی اولادنہ ہوئی،زید فوت ہوگیا،رحمت بی بی بھی فوت ہوگئی،کیارحمت کو زید کی جائیدادسےحصہ ملےگااوردوسری آدمی کی اولاد تین بچوں کوحصہ ملےگایانہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں پہلےشوہرکی طرف سےاگرطلاق نہیں دی گئی ،اورنہ خلع یاعدالت کےذریعےکوئی تفریق ہوئی ہوتویہ بیوی سابقہ شوہرکےنکاح میں ہی شمار ہوگی ،صرف غیرمحرم مرد کےساتھ بھاگ جانے اورناجائزتعلقات قائم کرنےسےسابقہ نکاح ختم نہیں ہوتا۔
ایک مردکےنکاح میں رہتےہوئےدوسرےمردکےساتھ تونکاح بھی شرعانہیں ہوسکتا،پھربغیرنکاح کےنامحرم مردکےساتھ تعلقات رکھنااوراس کےگھرآبادہوجاناکسی صورت جائزنہیں ہوسکتا،شرعاناجائزاورحرام ہے،جتناعرصہ ساتھ رہےیہ زناء شمارہوگا ،اس پرزندگی میں توبہ واستغفاربھی ضروری تھااورجلدازجلدعلیحدگی بھی ۔
موجودہ صورت میں چونکہ بیوی کانکاح پہلےشوہرکےساتھ شوہرکی وفات تک برقرارتھا،اورطلاق یاخلع وغیرہ کےذریعہ نکاح کوختم بھی نہیں کیاگیا،اس لیےبیوی مرحوم ملک جمال کی شرعاوارث ہوگی۔
مرحومہ کی اولادجودوسرےمردسےہے،وہ مرحومہ کےسابقہ شوہرکی میراث کی حق دارنہ ہوگی، ہاں مرحومہ کی میراث میں ان بچوں کاحصہ ہوگا۔
حوالہ جات
"درمختار" 2274/:
لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ ولاعلیہا تسریح الفاجر۔
"رد المحتار" 2318/:
قال فی البحر بدلیل الحدیث ان رجلا اتی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یارسول اللہ ان امرأتی لاتدفع یدلامس فقال علیہ الصلاۃ والسلام طلقہا فقال انی احبہا فقال علیہ الصلاۃ والسلام استمتع بہا۔
"ردالمحتار" 2318/:والمزنی بھا لاتحرم علی زوجہا۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
04/رمضان 1443 ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب |


