| 78176 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
عرض یہ ہے کہ آپ کے دارالافتا ء جامعة الرشید سے 2022/5/31 کو جاری شدہ فتوی نمبر 76993 بعنوان طلاق نامے پر زبردستی دستخط لینے کاحکم لکھا ہوا ہے﴿کہ صورت مسئولہ میں اگر واقعة آپ نے طلاق نامہ کو اپنے ہاتھ سے لکھا بھی نہیں، کسی کو لکھنے کاحکم بھی نہیں دیا اور لکھے ہوےطلاق نامے کو پڑھا بھی نہیں جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو ایسی صورت میں سسرال والوں کی زبر دستی کی وجہ سے محض طلاق نامے پر دستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،لہذا اس سے پہلے یا بعد میں اگر اور کوئی طلاق نہیں دی تو سائل کے لئے اس عورت کے ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گذارنا جائز ہے ﴾
لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کہ محمد بلال ولد فضل الرحمن نے مورخہ 2021/9/6 ء کو طلاق نامےمیں کلیئر لکھا ہواہے ذہنی ہم اہنگی نہ ہونے کی وجہ سے اور گھریلو ناچاقی کی وجہ سے ساتھ رہنا ناگزیر ہو گیا اور بہت سوچ سمجھ کر اسی فیصلے پر پہنچا ہوں کہ علیحدگی کرلیجائے ۔لہذا روبرو گواہان میں زبانی وتحریری تین مرتبہ شمائلہ بنت عبد القیوم کو طلاق دیتا ہوں ،آج کے بعد شمائلہ بنت عبد القیوم میری زوجیت سے خارج ہے ،بعد ایام عدت کے جہاں کہیں بھی رہے جس سے شادی کرے مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا ۔یہ طلاق نامہ اسے تحریر کرواکر اسے پڑھ کر ،پڑھواکر سن کر سمجھ کر قبول ومنظور کرتے ہوئے بغیر کسی زبردستی کے روبروگواہان دستخط کردئے ہیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آسکے
مزید وضاحت کروں کہ اس طلاق نامے پر جن گواہان کے دستخط ہیں ،ان میں سے گواہ نمبر ایک عبد الرحمن ولد حاجی محمد اقبال ہے ،بلال کا سگا چچا اور گواہ نمبر 2 محمد سہیل ولد محمد رفیق بلال کا ماموں ہے ۔﴿ طلاق نامے کی فوٹو کاپی ساتھ منسلک ہے ﴾
ہم نے دالافتاء مدرسہ بیت العلم نواب شاہ سے بھی اس سلسلے میں رجوع کیا ،انہوں نے لکھا ہے کہ شرعا طلاق واقع ہوچکی ہے ،لہذا ساری صورت حال لکھ کر دارالعلوم کراچی کے دارالافتا سے رجوع کرنا ضروری ۔ سابقہ فتوی کی فوٹو کاپی منسلک ہے ،ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے وضاحت فرمادیں کہ مورخہ 2022/5/31 کے فتوی کی اب کیاحقیقت ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح ہو کہ مفتی کو غیب کا علم نہیں ہوتا ،بلکہ سوال میں لکھی ہوئی تحریر کے مطابق ہی جواب لکھا جاتا ہے،باقی سوال میں صحیح بات لکھنے کی تمام تر ذمے داری سائل پر عائد ہوتی ہے ، لہذا اگر کوئی شخص تین طلاق دینے سے بیوی کے حرام ہونے کے بعد غلط بیانی کے ذریعہ کسی دارالا فتاء سےطلاق واقع نہ ہونے کا فتوی حاصل کرے ،اور پھراس طرح تین طلاق یافتہ عورت کو بیوی بناکر گھر میں بسائے او ر دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گذار ے ،تو شرعا یہ حرام کاری ،زنا کاری، بدکاری کے حکم میں داخل ہے ،ایسی صورت میں خاندان کے بااثر افراد پر لازم ہوجاتا ہے کہ اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے دونوں میں جدائی کروادے تا کہ دونوں حرام کاری سے بچ جائیں ۔
اس وضاحت کے بعد سوال میں ذکر کردہ مسئلہ کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ لڑکے کی طرف سے ان کے ماموں محمد سہیل ولد حاجی محمد رفیق نے پہلی مرتبہ سوال جمع کرواکر جواب حاصل کیا ،جس کی کاپی سوال کے ساتھ منسلک ہے ، اس کے بعد سہیل صاحب نے دوسری مرتبہ سوال جمع کرواکرمورخہ 2022/6/ 26کو تفصیلی فتوی ﴿ جس کا نمبر 77265ہے ﴾ حاصل کیا جو انہوں نے شاید لڑکی والوں کو پیش نہیں کیا ہے ۔ دونوں مرتبہ کے سوالات میں مشترکہ بات یہ تھی کہ بلال کے سسرال والے بلال کی بیوی کو طلاق نہ دینے کی صورت میں بلال کی بہن جوکہ بلال کے سالے کے نکاح میں تھی اس کے جہیز کا سامان واپس نہیں کررہے تھے،اور دوسری طرف سامان نہ لیجانے کی صورت میں بلال کی بہن خود کشی کا اقدام کرنے والی تھی، بلال نے بہن کی زندگی بچانے کی خاطر مجبورا طلاق نامے پر دستخط کیا ،اورزبانی طلاق نہیں دی ،اس وقت سوال کے ساتھ طلاق نامے کی کاپی منسلک نہیں کی تھی ، اس ساری صورت حال کو مد نظر رکھ کر پہلے فتوی میں طلاق واقع نہ ہونے کا لکھا گیا ،دوسری مرتبہ سوال میں مزید تفصیل سامنے آنے کے بعد پھردوسرا فتوی جاری ہوا۔جس کا مضمون یہ
﴿ کہ اگر سامان نہ لیجانے کی صورت میں آپ کوبہن کی خود کشی کرنے کا یقین یا غالب گمان تھا اور سسرال والے طلاق کے بغیر سامان لیجانے نہیں دے رہے تھےیعنی طلاق نامے پر دستخط کئے بغیر سامان لیجانے کی کوئی صورت نہیں تھی ، تو پھر مذکورہ صورت میں زبان سے طلاق کے الفاظ کہے بغیر مجبورا محض طلاق نامے پر دستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
بصورت دیگریعنی اگر آپ کو اس بات یقین یاغالب گمان تھا کہ سامان نہ لیجانے کی صورت میں بہن خود کشی کا اقدام نہیں کریگی،یا طلاق نامے پر دستخط کے بغیر بھی سامان لیجانے کی کوئی صورت آپ کے ذہن میں تھی تو پھر ،مذکورہ صورت میں تین طلاق واقع ہوچکی ہیں ،جس کے بعد موجودہ حالت میں آپ دونوں میاں بیوی کا نکاح ممکن نہیں رہا ﴾ یہ فتوی مورخہ 2022/6/ 26 کو جاری ہوا ۔اس فتوی میں جواب کا مدار اس بات پر ہے کہ بلال کا دعوی تھا جو اس نے سوال میں ذکر کیا ہے کہ اس نے زبانی کوئی طلاق نہیں دی ،آگے طلاق نامے پر جو دستخط کیا وہ بھی بہن کو خود کشی کے اقدام سے بچا نے کے لئے کیا ۔
اب دوسری طرف سے آپ کا دعوی ہے کہ بلال نے سوال میں جوکچھ لکھا وہ حقیقت کے برعکس ہے تو ہماری طرف سے لکھے گئے جواب کی دوسری شق کو دیکھ لیاجائے کہ اس میں تحریر ہے کہ اگر بلال کو اس کی بہن کی طرف سے خود کشی کے اقدام کا یقین یا غالب گمان نہیں تھا تو پھر مذکورہ صورت میں طلاق نامے پر دستخط سے بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ۔
لہذا دونوں فریق کو چاہئے بار بار فتوی لینے کی بجائے ۔ طرفین ملکر پنچایت بلائیں اور اس میں بلا ل کے دعوی کےسچ یا جھوٹ ہونے کا جائز ہ لیں اور حاصل کیےگئے فتوی کی روشنی میں فیصلہ کریں ۔
اور اگر ہمارے فتوی پر اطمینان نہ ہو تو دیگر اداروں سے رجوع کیاجائے ۔
حوالہ جات
.....
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
١۸ ربیع الثانی ١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


