| 78326 | جائز و ناجائزامور کا بیان | پردے کے احکام |
سوال
عورت کے لیے کن کن رشتہ داروں سے پردہ کرنا ضروری ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہر مرد اور عورت جن کا آپس میں زندگی میں کسی بھی وقت نکاح ہوسکتا ہو، وہ ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں، مثلا خالہ زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد، دیور، بہنوئی، نندوئی، خالو، پھوپھا، چچی، ممانی، سالی، لے پالک اور منہ بولے بیٹے کی بیوی، وغیرہ۔ اس طرح کے تمام رشتہ داروں سے پردہ کرنا ضروری ہے۔ اور ہر وہ مرد و عورت جن کا آپس میں زندگی میں کسی بھی وقت نکاح نہ ہوسکتا ہو، وہ ایک دوسرے کے لیے محرم ہیں، ان کے اوپر ایک دوسرے سے پردہ کرنا لازم نہیں۔ ان محارم کی تین قسمیں ہیں:-
(1)۔۔۔ "محارمِ نسبی"، یعنی وہ محارم جن سے نسبی رشتہ ہو، جیسے مردوں میں باپ، دادا، نانا، بیٹا، پوتا، نواسا، بھائی، چچا، ماموں، بھتیجا، بھانجا وغیرہ، اور عورتوں میں ماں، دادی، نانی، بیٹی، پوتی، نواسی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی اور بھانجی وغیرہ۔
(2)۔۔۔ "محارمِ رضاعی"، یعنی وہ محارم جن سے رضاعت کا رشتہ ہو، مثلا مردوں میں رضاعی باپ، رضاعی بھائی، رضاعی چچا، اور عورتوں میں رضاعی ماں، رضاعی بہن وغیرہ۔
(3)۔۔۔ "سسرالی محارم"، یعنی وہ رشتہ دار جن سے سسرالی تعلق ہو، مثلا مردوں میں سسر، داماد، اور عورتوں میں ساس، بہو وغیرہ۔
واضح رہے کہ شریعت میں مذکورہ بالا تمام محارم سے پردہ کا حکم نہیں، لیکن جہاں کہیں فتنہ کا اندیشہ ہو، وہاں محرم سے بھی پردہ کرنا لازم ہوگا۔
حوالہ جات
القرآن الکریم:
{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: 23]
فتاوى قاضيخان علی هامش الهندیة (1/ 360):
(باب في المحرمات)حرمة النكاح على نوعين، مؤبدة وغير مؤبدة، تثبت بالنسب وبالرضاع والصهرية:-
أما المحرمات بالنسب ما نص الله تعالى في قوله "حرمت عليكم أمهاتكم" الآية، الأم بالرشدة والزنية حرام، وكذلك الجدة القربى والبعدى من قبل الأب أو الأم، وكذلك البنت وأولاد البنت وإن سفلن، وبنات الابن كذلك، المخلوقة من ماء الزنا حرام عندنا، وكذا الأخوات من أي جهة كن، وبنات الأخوات وإن سفلن، وكذلك بنات الأخ وإن سفلن، وكذا العمات والخالات من الوجوه الثلاثة، وعمات الأصول وخالاتهم، أم العمة حرام، وعمة العمة لأب وأم أو لأب كذلك، وأما عمة العمة لأم لا تحرم.
و أما المحرمات بالرضاع فما يحرم من النسب يحرم بالرضاع، وإنما يفارق الرضاع النسب في مسائل، منها: تحرم على الرجل أخت ولده من النسب ولا تحرم عليه أخت ولده من الرضاع، ومنها: أنه لا يحل للرجل أن يتزوج جدة ولده من النسب و تحل جدة ولده من الرضاع، ومنها: لا يحل للرجل أن يتزوج بأم أخيه أو أم أخته من النسب ويحل من الرضاع، وسنذكر مسائل الرضاع بعد هذا في باب على حدةٍ إن شاء الله تعالى.
وأما المحرمات بالصهرية، الصهرية تثبت بالعقد الجائز وبالوطأ حلالاً كان أو عن شبهة أو زنا. أما المحرمات بالعقد فمنكوحة الأب والجد من قبل الأب أو الأم وإن علا، ومنكوحة الابن وابن الابن وابن البنت وإن سفل، وأم المرأة وجدتها القربى والبعدى، دخل بالمرأة أو لم يدخل، وبنت المرأة وبنات أولادها وإن سفلن إن كان دخل بالمرأة. وأما المحرمات بالوطأ الحلال فموطوأة الأب والجد وإن علا بملك اليمين، موطوأة الأب وابن الابن وإن سفل……. وأما الموطوأة عن شبهة، وهي الجارية المشتركة بينه وبين غيره، إذا وطئها أحدهما يحرم عليه أصولها وفروعها، وتحرم الموطوأة على أصول الواطئ وفروعه. والزنا في القبل بمنزلة الوطأ الحلال في ذلك عندنا…..….. الخ
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
25/ربیع الثانی/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


