| 78328 | جائز و ناجائزامور کا بیان | علاج کابیان |
سوال
ایک خاتون سائیکالوجسٹ یعنی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ہے، سائیکالوجسٹ کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ مریض کے ساتھ اکیلے ملاقات کر کے اس کا مسئلہ پوچھا جائے، اس کی ذہنی کیفیت کو صحیح طور پر جاننے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ پوری طرح سے اپنے مسائل بیان کرے جن کی وجہ سے اس کو ذہنی دباؤ اور ٹینشن ہے۔ اس کا خیال رکھتے ہوئے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر مریض کے ساتھ بند کمرے میں بات چیت کرتا ہے۔ کیا اس خاتون سائیکالوجسٹ کے لیے اس طرح مرد مریضوں کو چیک کرنا کیسا ہے؟ اگر یہ صحیح نہیں تو اس کی جائز صورت کیا ہوسکتی ہے؟
تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ بعض دفعہ ہسپتال میں مرد سائیکالوجسٹ نہیں ہوتا، خاتون ہوتی ہے، البتہ شہر کے دوسرے ہسپتالوں میں مرد سائیکالوجسٹ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر اور مریض کی تنہائی میں ملاقات کے دوران دروازہ بند ہوتا ہے، ہسپتال کے عملے میں سے بھی کسی کو دروازہ کھٹکھٹائے اور اجازت لیے بغیر اندر آنے کی اجازت نہیں ہوتی، اجازت لے کر وہ اندر کسی کام سے جاسکتے ہیں، اور بعض صورتوں میں مریض کی صورتِ حال دیکھتے ہوئے ان کو جانے کی بالکل اجازت نہیں ہوتی؛ تاکہ مریض اپنی ذاتی اور نجی نوعیت کی وہ باتیں بتانے میں ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہو جن کی وجہ سے اس کو ذہنی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
علاج کے باب میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ مرد مریض مرد ڈاکٹر سے علاج کرائیں اور عورتیں خاتون ڈاکٹر سے، الا یہ کہ مرد مریض کو مرد ڈاکٹر دستیاب نہ ہو، یا خاتون مریض کو خاتون ڈاکٹر دستیاب نہ ہو تو ایسی ضرورت کے وقت مخالف جنس کا علاج کرنا جائز ہے، لیکن خلوت اور تنہائی پھر بھی جائز نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کوئی مرد کسی (نامحرم) خاتون کے ساتھ ہرگز خلوت اختیار نہ کرے؛ کیونکہ ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ ہرگز تنہائی میں نہ رہے، الا یہ کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔
اس لیے جہاں مرد ماہرِ نفسیات ڈاکٹر دستیاب ہوں، وہاں خاتون ڈاکٹر کے لیے مرد مریض کا علاج کرنا جائز نہیں۔ اگر کہیں پر مرد ماہرِ نفیسات ڈاکٹر موجود ہی نہ ہو اور خاتون ڈاکٹر کو مجبورا مرد مریضوں کا علاج کرنا پڑے تو مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ علاج کی گنجائش ہوگی:-
- خاتون ڈاکٹر مکمل شرعی حجاب کا اہتمام کرے۔
- دورانِ گفتگو بے تکلفی اختیار نہ کرے، حتی الامکان آواز کی نزاکت ولطافت کو ختم کرے اور
کسی قسم کی بداخلاقی کے بغیر بتکلف پھیکے انداز میں بات چیت کرے۔
- فتنہ میں پڑنے کا خطرہ نہ ہو۔
- دورانِ ملاقات اپنی نظروں اور خیالات کی حفاظت کرے، اور استغفار کرتی رہے۔
- مریض اور ڈاکٹر کے درمیان معتد بہ فاصلہ ہو اور بیچ میں ٹیبل یا میز وغیرہ ہو۔
- جس کمرے میں مریض سے اس کے احوال دریافت کرے، حتی الامکان اس کا دروازہ کھلا رکھے، دروازہ بند کرنے کا مقصد چونکہ مریض کو ذہنی طور پر مطمئن رکھنا ہے؛ اس لیے اس مقصد کے لیے دروازے کے باہر بغیر اجازت اندر آنے کی ممانعت کا اعلان لگائے، یا کسی بڑے ہال میں جہاں اور لوگ بھی ہوں، اتنی دور بیٹھ کر مریض کے احوال دریافت کرے جہاں سے مریض کی آواز لوگوں تک نہ پہنچے۔ اس طرح سے مریض کھل کر بات کرسکے گا۔
ان شرائط کا خیال رکھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ حتی الامکان ناجائز کام سے بچا جاسکے اور علاج کی ضرورت جس قدر سے پوری ہوسکتی ہے، اسی پر اکتفاء کیا جائے۔
واضح رہے کہ جس طرح خواتین ڈاکٹرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذکورہ اصولوں کے مطابق علاج معالجہ کریں، اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ حکومت اور ہسپتالوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مردوں کے لیے مرد ڈاکٹرز اور خواتین کے لیے خواتین ڈاکٹرز کا الگ الگ انتظام کریں؛ تاکہ ڈاکٹر اور مریض دونوں شریعت کے احکامات کے مطابق علاج معالجہ کر اور کراسکیں۔
حوالہ جات
المستدرك (1/ 115):
عن عامر بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه قال وقف عمر بن الخطاب بالجابية فقال رحم الله رجلا سمع مقالتي فوعاها إني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وقف فينا كمقامي فيكم ثم قال: احفظوني في أصحابي، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم، ثلاثا، ثم يكثر الهرج، ويظهر الكذب، ويشهد الرجل ولا يستشهد، ويحلف ولا يستحلف ، من أحب منكم بحبوحة الجنة فعليه بالجماعة؛ فإن الشيطان مع الواحد، وهو من الإثنين أبعد، ألا لا يخلون رجل بامرأة؛ فإن الشيطان ثالثهما، من سرته حسنته، وساءته سيئته فهو مؤمن.
صحيح مسلم (2/ 977):
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة وزهير بن حرب كلاهما عن سفيان قال أبو بكر حدثنا سفيان بن عيينة حدثنا عمرو بن دينار عن أبي معبد قال سمعت بن عباس يقول: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب يقول: لا يخلون رجل بامرأة إلا ومعها ذو محرم……..……الحدیث
شرح النووي على صحیح مسلم (9/ 109):
قوله صلى الله عليه و سلم ( ومعها ذو محرم ) يحتمل أن يريد محرما لها، ويحتمل أن يريد محرما لها، أوله، وهذا الاحتمال الثاني هو الجارى على قواعد الفقهاء؛ فإنه لا فرق بين أن يكون معها محرم لها، كابنها وأخيها وأمها وأختها، أو يكون محرما له كأخته وبنته وعمته وخالته، فيجوز القعود معها في هذه الأحوال. ثم إن الحديث مخصوص أيضا بالزوج؛ فإنه لو كان معها زوجها، كان كالمحرم وأولى بالجواز.
وأما اذا خلا الأجنبي بالأجنبية من غير ثالث معهما فهو حرام بإتفاق العلماء، وكذا لو كان معهما من لا يستحى منه لصغره كابن سنتين وثلاث ونحو ذلك؛ فإن وجوده كالعدم، وكذا لو اجتمع رجال بامرأة أجنبية فهو حرام، بخلاف ما لو اجتمع رجل بنسوة أجانب؛ فإن الصحيح جوازه، وقد أوضحت المسألة في شرح المهذب في باب صفة الأئمة في أوائل كتاب الحج، والمختار أن الخلوة بالأمرد الأجنبي الحسن كالمرأة، فتحرم الخلوة به حيث حرمت بالمرأة، إلا اذا كان في جمع من الرجال المصونين. قال أصحابنا: ولا فرق في تحريم الخلوة حيث حرمناها بين الخلوة في صلاة أو غيرها.
ويستثنى من هذا كله مواضع الضرورة بأن يجد امرأة أجنبية منقطعة في الطريق أو نحو ذلك، فيباح له استصحابها، بل يلزمه ذلك إذا خاف عليها لو تركها، وهذا لا اختلاف فيه، ويدل عليه حديث عائشة في قصة الإفك، والله أعلم.
أیضا فتح الملهم شرح صحیح مسلم (6/491):
الدر المختار (6/ 370):
(….ينظر ) الطبيب ( إلى موضع مرضها بقدر الضرورة )؛ إذ الضرورات تتقدر بقدرها، وكذا نظر قابلة وختان.وينبغي أن يعلم امرأة تداويها؛ لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف.
رد المحتار(6/ 371):
قوله ( وينبغي إلخ ) كذا أطلقه في الهداية و الخانية. وقال في الجوهرة: إذا كان المرض في سائر بدنها غير الفرج يجوز النظر إليه عند الدواء؛ لأنه موضع ضرورة، وإن كان في موضع الفرج فينبغي أن يعلم امرأة تداويها، فإن لم توجد وخافوا عليها أن تهلك أو یصيبها وجع لا تحتمله ستروا منها كل شيء إلا موضع العلة، ثم يداويها الرجل، ويغض بصره ما استطاع إلا عن موضع الجرح اه، فتأمل. والظاهر أن "ينبغي" هنا للوجوب.
البحر الرائق (8/ 218):
والطبيب إنما يجوز له ذلك إذا لم توجد امرأة طبيبة، فلو وجدت فلا يجوز له أن ينظر؛ لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف. وينبغي للطبيب أن يعلم امرأة إن أمكن، وإن لم يمكن ستر كل عضو منها سوى موضع الوجع، ثم ينظر، ويغض بصره عن غير ذلك الموضع إن استطاع؛ لأن ما ثبت للضرورة يتقدر بقدرها.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
25/ربیع الثانی/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


