03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موبائل فون میسج کے ذریعہ نکاح کا حکم
78056نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب! ایک بچی نے اپنے منگیتر سے موبائل میسج پر ایجاب و قبول کرلیا، دونوں نے تین تین دفعہ ایجاب اورتین تین دفعہ قبول کیا،اس وقت دونوں الگ الگ شہروں میں مقیم تھے،لڑکے کےپاس اس وقت کوئی دوسراشخص موجودنہیں تھا،لیکن کچھ دن بعداس نے دو دوستوں کو اس بارے میں الگ الگ وقت میں بتایا، دوستوں نے وہ میسج پڑھے نہیں تھےاور نہ ہی لڑکے نے وہ میسج ان کو پڑھ کر سنائے،صرف زبانی بتایا کہ اس نے ایسے ایجاب و قبول کیا ہے،لڑکی کی طرف بھی گواہ موجود نہیں تھے،یہ اس نے بہت یقین سے بتایا تھا،پھر وہ منگنی ٹوٹ گئی،اس کے ڈیڑھ سال بعد لڑکی کا نکاح ایک اور لڑکے سے کر دیا گیا،اس نکاح کے کچھ عرصے بعد سے اب لڑکی وہم کا شکار رہنے لگی ہےاورکہتی ہے کہ ہو سکتا،اس وقت جب میسج کئے تھے تب میرے پاس کوئی دوست/گواہ ہو اور میں بھول گئی ہوں،یہ وہم بہت بڑھ چکا ہے۔ بتائیے گا کہ اگر اس وقت جب وہ ایجاب وقبول کے میسج کئے گئے،اگر لڑکی کی طرف اس کی ایک (یا دو یا تین یا چار) سہیلیاں موجودہوں جو وہ میسج پڑھ لیں یا لڑکی خود انکو ایجاب و قبول والے میسج پڑھ کر سنا دے تو کیا اس طرح نکاح منعقد ہو جائے گا؟ اوردوسری جگہ نکاح کے لئے کیا پہلے لڑکے سے طلاق لینی ہو گی؟ ( لڑکی کی 10،11 قریبی دوستوں سے بھی پوچھا اور سب نے یہی کہا کہ ایسا کچھ بھی ان کے سامنے نہیں ہوا اورایک دوست کا کہنا ہے شاید ہوا ہو،لیکن اس کو ایسا کچھ یاد نہیں ہے)۔ برائے مہربانی آسان الفاظ میں سمجھا دیجئے۔ لڑکی کے والدین کو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا اور انہوں نے بچی کا نکاح ایک دوسری جگہ کر دیا ہوا ہے،نیز کوئی حق مہر بھی مقرر نہیں ہوا تھا،لڑکی کی اس منگیتر سے دو دفعہ والدہ کی موجودگی میں اور ایک دو دفعہ اکیلے میں ملاقات ہوئی۔ اس کے علاوہ میسج پر ایک دوسرے سے میاں بیوی والی بےباک گفتگو بھی کر لیتے تھے،جس کے نتیجے میں بعض دفعہ خروج بھی ہوتا تھااور اپنی تصویریں وغیرہ بھی شئیرکرتےتھے۔ اب لڑکی نے اس منگیتر سے لکھوا اور بلوا کر طلاق بھی لی ہے اوراس بارے میں لڑکی کی کچھ دوستوں اور لڑکے کے دو دوستوں کومعلوم بھی ہے،نیز تین ماہواری گزرنے کے بعد اس نے اپنے موجودہ شوہر کے ساتھ رخصتی سے پہلے نکاح کی تجدید بھی کروا لی اور نیا حق مہر بھی مقرر ہوا،تجدید کے وقت لڑکی خود ،اسکے والدین، اسکا بھائی، دو سہیلیاں اور اسکا میاں موجود تھے اور والد نے تین دفعہ ایجاب اور لڑکی کے میاں نے تین دفعہ قبول کیا اور نیا حق مہر بھی رکھا جو ابھی ادا نہیں ہوا،اس تجدید کی اصل وجہ صرف لڑکی اور اس کی دو دوستوں کو معلوم ہے۔ اس سارے مسئلے کے بارے میں اب بتا دیں کہ

۱۔ پہلے لڑکے ( منگیتر) کے ساتھ نکاح منعقد ہوا تھا یانہیں؟

۲۔دوسری جگہ نکاح کے لئیے پہلے لڑکے سے طلاق لینا ضروری تھایا نہیں؟

۳۔اگرطلاق لیناضروری نہیں تھاتواس طرح وہم ختم کرنےکےلیےطلاق لینےاورنکاح کی تجدید کرنےسےلڑکی اوراسکےموجودہ شوہرکےرشتے پرکوئی اثرتو نہیں پڑا؟یہ لڑکی کافی وہمی ہے،دنیاوی کاموں میں بھی وہم کرتی ہے،منگیترسےطلاق لینےمیں بھی یہی کیا،پہلےمیسج پرلکھوا کر3طلاقیں لیں،لیکن تب مخصوص ایام تھےتوچند دن بعد دوبارہ لی،جب ایام ختم ہوئے،ڈھائی مہینےبعداسے کہا کہ بول کردو،کیونکہ وہم ہو گیاتھا کہ لکھ کردینے سےشاید نہیں ہوتی،اردو زبان میں دواوراس طرح کےوہم کرکر کےقریبا کل کوئی اٹھارہ یازیادہ دفعہ اس نےطلاق لی،تب اسکی تسلی ہوئی،اس چیز سے مسئلے میں کوئی تبدیلی نہ آجائے، اس لئے یہ بھی بتا دیا آپکو۔ مہربانی فرما کر جلد جواب دیجئے،تاکہ ہماری پریشانی ختم ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱۔ نکاح کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ نکاح کی مجلس میں  گواہوں کے سامنے زوجین دونوں خود یا انکے وکیل  یا کم از کم کسی ایک کا وکیل موجود ہو۔صورت مذکورہ میں چونکہ  کسی بھی  جانب نہ تو گواہ تھے اور نہ ہی کسی ایک کی جانب کسی کا وکیل موجود تھا اس لیے یہ نکاح نہیں ہوااور بعد میں کسی کو سابق ایجاب وقبول کی میسج یا الفاظ بتانے سے گواہی کا شرعی مقصد ومفہوم حاصل نہ ہوگا،لہذا صرف ایجاب وقبول کی خبر دینے سے یا گواہوں کے سامنےانفرادی طور پرالگ الگ عقد کرنے سےیا گواہی میں شک ہونےسے(جیساکہ سؤال میں لکھا ہے۔) نکاح نہیں ہوا۔

۲۔ جب نکاح نہیں ہوا تو اس لڑکے سے طلاق لینے کی کوئی حاجت نہیں۔

۳۔محض وہم کرنے کے لیے اس قدر بے معنی طلاقیں دلوادی گئی ہیں،معھذا اس سے مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 12)

ولا بكتابة حاضر بل غائب بشرط إعلام الشهود بما في الكتاب ما لم يكن بلفظ الأمر فيتولى الطرفين فتح

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 12)

(قوله: فتح) فإنه قال ينعقد النكاح بالكتاب كما ينعقد بالخطاب. وصورته: أن يكتب إليها يخطبها فإذا بلغها الكتاب أحضرت الشهود وقرأته عليهم وقالت زوجت نفسي منه أو تقول إن فلانا كتب إلي يخطبني فاشهدوا أني زوجت نفسي منه، أما لو لم تقل بحضرتهم سوى زوجت نفسي من فلان لا ينعقد؛ لأن سماع الشطرين شرط صحة النكاح، وبإسماعهم الكتاب أو التعبير عنه منها قد سمعوا الشطرين بخلاف ما إذا انتفيا قال في المصفى: هذا أي إذا كان الكتاب بلفظ التزوج، أما إذا كان بلفظ الأمر كقوله زوجي نفسك مني لا يشترط إعلامها الشهود بما في الكتاب؛ لأنها تتولى طرفي العقد بحكم الوكالة، ونقله عن الكامل، وما نقله من نفي الخلاف في صورة الأمر لا شبهة فيه على قول المصنف والمحققين، أما على قول من جعل لفظة الأمر إيجابا كقاضي خان على ما نقلناه عنه فيجب إعلامها إياهم ما في الكتاب. اهـ.

وقوله: لا شبهة فيه إلخ قال الرحمتي: فيه مناقشة لما تقدم أن من قال إنه توكيل يقول توكيل ضمني فيثبت بشروط ما تضمنه وهو الإيجاب كما قدمناه، ومن شروطه سماع الشهود فينبغي اشتراط السماع هنا على القولين إلا أن يقال قد وجد النص هنا على أنه لا يجب فيرجع إليه. اهـ.

 

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۳ربیع الاول۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب