| 78604 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
فری لانسنگ کے ذریعے لوگ مختلف کام کر کے ان کی اجرت لیتے ہیں، اس میں آن لائن لیکچرز یعنی تدریس بھی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ فری لانسنگ ویب سائٹ پر اکاؤنٹ بناکر قرآن، حدیث اور دینی کتب کی تدریس کر کے اجرت لینا کیسا ہے؟ ویب سائٹ ہر آرڈر پر اپنا حصہ کاٹتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فری لانسنگ ویب سائٹ پر اکاؤنٹ بنا کر لوگوں کو جائز خدمات (مثلاً قرآن، حدیث اور دینی کتب کی تعلیم وتدریس) فراہم کرنا اور اس کی اجرت لینا جائز ہے، بشرطیکہ اجارہ کی تمام شرائط موجود ہوں، مثلا اجرت پہلے سے معلوم اور متعین کی گئی ہو۔ فری لانسنگ ویب سائٹ ہر آرڈر پر اپنا جو متعین حصہ بطورِ کمیشن وصول کرتی ہے، وہ بھی درست ہے۔
حوالہ جات
۔
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
26/جمادی الاولیٰ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


