03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
انڈین کمپنیIxigoمیں انویسمنٹ کرکےنفع(Profit) لینا
76567شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ ایکسیگو"Ixigo" انڈین کمپنی  ہے،اس میں انویسمنٹ کرنےکےلیےکمپنی کےنام سےایک ایپ ہے،جس میں پہلے اکاؤنٹ کھولنا پڑتاہےاوراکاؤنٹ کھلوانےکےلیےکوئی زیادہ شرائط نہیں ہیں،سم کارڈ،ای میل اورشناختی کارڈکےذریعےاکاونٹ کھولاجاسکتاہے،پھرکم ازکم 41ڈالرسے سرمایہ کاری  کی جاسکتی ہے،اکاونٹ کھولنےسےکمپنی کی طرف سے9ڈالربونس دیاجاتاہے،اس کےبعدمنافع آناشروع ہوجاتاہے،کمپنی کےمنافع کا دارومدارسرمایہ کاری پرہےاگرپچاس ڈالرہوں تومنافع 3.1یا5.1ڈالرتک آجاتاہے اور اگرسرمایہ کاری اس سے بھی زیادہ ہو،مثلا100ڈالرتو منافع بھی زیادہ ملتاہے،کیااس طرح  منافع ملنےکا طریقہ شرعا جائزہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں کمپنی سےجونفع(Profit)ملتاہےوہ سرمایہ کاری)انویسمنٹ(کرنےپرطے شدہ اورمتعین نفع ملتا ہے جبکہ شراکت داری کےکسی بھی کاروباری معاملے میں سرمایہ پرطےشدہ اورمتعین نفع لینا شرعاً جائز نہیں ہے،نیزاگرمذکورہ صورت میں اصل رقم کی واپسی کی گارنٹی بھی شامل ہوتوقرض دےکرسودوصول کرنےکےحکم میں ہےاورسود بلاشبہ حرام ہے،مزیدیہ بھی واضح نہیں کہ کمپنی کس قسم کاکاروبارکرتی ہےاوریہ کہ آیاوہ شرعاجائزہےیانہیں؟لہذاان وجوہات کی بناءپر مذکورہ کمپنی میں سرمایہ لگانےسےاجتناب کریں،اورجتنا آپ کاسرمایہ  تھا اتنا وصول کرکےاضافی رقم  صدقہ کردیں ۔

سرمایہ کاری کےلیے پیسہ "شرکت" یا "مضاربت" کے معاہدے کےتحت دینا چاہئےشرکت میں دونوں کا سرمایہ ہوتا ہے اور یہ طے ہوتا ہےکہ کاروبارمیں جتنا نفع ہوگا،اس کا اتنا فیصد فلاں کواوراتنا فیصدفلاں کو ملے گا،اگر کاروربار میں خسارہ ہوا تو بقدرسرمایہ ہرایک شریک برداشت کرےگا۔اورمضاربت یہ ہےکہ ایک آدمی کا مال ہواوردوسرےکی محنت،محنت(کاروبار) کرنے والےکوتجارت سےجوکچھ نفع ہوگا،اس نفع کوفیصدکے طور پر باہم تقسیم کر لیا جائے مثلا آدھا آدھا یا کم و بیش، اگر نقصان ہوا تو پیسہ دینے والے کا پیسہ جائے گا، اور محنت کرنے والے کی محنت جائے گی۔

حوالہ جات

«صحيح البخاري» (2/ 723 ت البغا)

عن النعمان بن بشير رضي الله عنه قال:قال النبي صلى الله عليه وسلم: (الحلال بين والحرام بين، وبينهما

 أمور مشتبهة، فمن ترك ما شبه عليه من الإثم كان لما استبان أترك، ومن اجترأ على ما يشك فيه من الإثم أوشك أن يواقع ما استبان، والمعاصي حمى الله، من يرتع حول الحمى يوشك أن يواقعه)

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (2/ 302):

وأن ‌يكون ‌الربح ‌معلوم ‌القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة وأن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة، كذا في البدائع

«مجلة الأحكام العدلية» (ص271):

المادة (1404) ‌المضاربة ‌نوع ‌شركة ‌على أن يكون رأس المال من طرف والسعي والعمل من الطرف الآخر ، ويدعى صاحب المال رب المال والعامل مضاربا

«مختصر القدوري» (ص113):

ومن ‌شرطها: ‌أن ‌يكون ‌الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما منه دراهم مسماة ولا بد أن يكون المال مسلما إلى المضارب ولا بد لرب المال فيه

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص545):

(‌وكون ‌الربح ‌بينهما ‌شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهم معلوما) عند العقد.

ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح، حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت

عبدالقدوس

دارالافتاء،جامعۃ الرشیدکراچی

۱۳رمضان۱۴۴۳

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالقدوس بن محمد حنیف

مفتیان

آفتاب احمد صاحب