03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیع مرابحہ کا حکم
79050خرید و فروخت کے احکاممرابحہ اور تولیہ کا بیان

سوال

میں نے کاروبار کی نیت سے ایک گاڑی دس لاکھ میں خریدی ہےاب اس گاڑی کو میں دس لاکھ پچاس ہزار کے عوض بیچتا ہوں۔ کیا یہ پچاس ہزار روپے کا نفع میرے لیے جائز ہے۔

میں نے کاروبار کی نیت سے ایک گاڑی دس لاکھ کی خریدی ہے۔ میرے پاس ایک بندہ آکر کہتا ہے کہ میں آپ کو پچاس ہزار نقد دیتا ہوں باقی چھ ماہ بعد دوں گا۔ کیا اس بندے سے یہ گاڑی تیرہ لاکھ کے عوض چھ ماہ کے ٹائم سے تین لاکھ نفع کے ساتھ بیچنا جائز ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جائز ہے۔

حوالہ جات

الهداية شرح البداية (3/ 56)

 المرابحة نقل ما ملكه بالعقد الأول بالثمن الأول مع زيادة ربح والتولية نقل ما ملكه بالعقد الأول بالثمن الأول من غير زيادة ربح والبيعان جائزان لاستجماع شرائط الجواز

الدر المختار (5/ 132)

( المرابحة ) مصدر رابح وشرعا ( بيع ما ملكه ) من العروض ولو بهبة أو إرث أو وصية أو غصب فإنه إذا ثمنه ( بما قام عليه وبفضل )

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 194)

( المادة 245 ) البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح يصبح البيع بتأجيل الثمن وتقسيطه بشرط أن يكون : أولا : بخلاف جنسه . وثانيا : أن يكون دينا لا عينا

الدر المختار (4/ 531)

( وصح بثمن حال ) وهو الأصل ( ومؤجل إلى معلوم ) لئلا يفضي إلى النزاع

فقہ البیوع ج 1 ص 545

وإنّ زیادۃ الثمن من أجل الأجل ،وإن کان جائزا عند بدایۃ العقد، ولکن لا تجوز الزّیادۃ عند التّخلّف فی الأداء، فإنہ رباً فی معنی "أتقضی أم تربی؟"، وذالک لأنّ الأجل ،وإن کان منظورا عند تعیین الثمن فی بدایۃ العقد ،ولکن لمّا تعین الثمن ،فإنّ کلہ مقابل للمبیع، ولیس مقابلا للأجل، ولذلک لایجوز "ضع و تعجل" ۔ أمّا إذا زید فی الثّمن عند التّخلّف فی الأداء ، فھو مقابل للأجل مباشرۃً لا غیر، وھو الربا.

عنایت اللہ عثمانی

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

25 جمادی الثانی 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب