03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کے متفرق مسائل
79051میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کچھ تفصیل کے بعد چند سوالات پیش خدمت ہیں:

ہم چار بہنیں اور دو بھائی (بابر اور صابر) ہیں۔ ہمارا100 گز پر مشتمل گھر ہے جو ہمارے والد صاحب کے نام پر ہے2019 کے ستمبر میں دونوں بھائیوں نے باہمی مشورے سے اس گھر کی قیمت 80 لاکھ مقررکی (جبکہ غیروں سے ہمیں معلوم ہوا کہ اُس وقت اس کی قیمت ایک کروڑ اور اب ایک کروڑ بیس یا تیس لاکھ ہے)۔اس گھر کو 50،50 گز کرکے دونوں بھائیوں نے خود لینے کا فیصلہ کیا۔بابر نے چھوٹی دونوں بہنوں کو اور صابر نے بڑی دونوں بہنوں کو حصّہ دینے کا فیصلہ کیا۔ صابر نے مجھے چھ لاکھ دیے اور باقی چار لاکھ فروری 2021 میں دینے کا وعدہ کیا۔ایک لاکھ اس نے فروری 2021 میں دیے اور اپریل 2021ء میں اس کا انتقال ہوا۔ مسز صابر نے ایک لاکھ مجھے اکتوبر 2021ء میں دیے اور باقی دو لاکھ بعد میں دینے کا وعدہ کیا۔ مجھ سے چھوٹی بہن کا انتقال فروری 2009ء میں ہوچکا ہےاس کی ایک بیٹی ہے جس کی عمر 19 سال ہے۔

بابر نے ایک بہن (شادی شدہ) کو حصّہ دینے کا اعتراف کیا جبکہ دوسری بہن نے شادی نہیں کی حالانکہ وہ چالیس سے اوپر کی ہوگئی ہے۔

اب سوالات مندرجہ ذیل ہیں:

1. غیر شادی شدہ بہن کے حصّے کا کیا ہوگاکیونکہ وہ کہتی ہے کہ میں نے شادی نہیں کرنی ہےاور بابر کہتا ہے کہ اگر وہ شادی نہیں کرے گی تو پھر حصّہ کس چیز کا؟

2. مسز صابر بیوہ ہے۔اُن کی ایک بیٹی تین سال کی ہےاُس کے حصّے کی تقسیم کس طرح ہوگی۔ وہ صابر کے حصّے میں سے کتنے کی حصّہ دار ہوگی؟ اُن کی بیٹی کتنی کی ہوگی؟ اور یہ حصّہ ان کو کب اور کیسے دیا جائیگا؟

3. بھائی(صابر) کی پنشن(بھائی پولیس میں سپاہی تھے) اور گریجوٹی کا کیا ہوگا؟

4. صابر کے حصّے میں میں اورمجھ سے چھوٹی بہن تھی(اُس کا انتقال 2009ء میں ہوا ہے) اب جو صابر کے حصّہ میں 50 گز کا گھر ہے اس کی تقسیم کیسی ہوگی بھابھی، بھتیجی مرحوم بہن اور میرا کتنا حصّہ ہوگا۔

5. میں نے جو پہلے پیسے لیے تھےاُس کی میرے حصّے میں کٹوتی ہوگی یا نہیں۔ اور کیا صابر کے گھر میں بابر اور دوسری بہنوں کا بھی کوئی حصّہ ہوگا یا نہیں؟

وضاحت: سائل کی زبانی وضاحت سے معلوم ہوا کہ گھر والد کی ذاتی ملکیت تھی اور والد 2008ء کو فوت ہوئے اور اس وقت دونوں بھائی اور چاروں بہنیں حیات تھیں۔بتصریح سوال ان کی ایک بہن کا انتقال فروری 2009ء میں ہوا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ  سوالات کے جوابات سے پہلے یہ بات ملاحظہ فرمائیں کہ بھائیوں کا گھر کی قیمت مارکیٹ کی قیمت کے بجائےاپنی مرضی سے لگانا ، جو اس کی اصل قیمت سے واضح طور پرکم ہو،  ظلم اور ناجائز ہے۔گھر کی قیمت دو غیر جانبدار گھروں کی مالیت سے واقف اور عادل آدمیوں سے لگوا کر اس کے مطابق حصّہ داروں کو ان کا حق دینا ضروری ہے۔

اب بالترتیب سوالات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں:

1. غیر شادی شدہ بہن بھی اتنے حصّے کی حقدار ہے جتنے کی شادی شدہ بہن ۔ لہٰذا بابر کا یہ کہنا کہ شادی نہیں کرنی تو پھر حصّہ کس چیز کا، یہ شرعاً غلط اور ناجائز ہے۔ غیر شادی شدہ بہن کو اُس کا حق دینا شرعاً واجب اور ضروری ہے۔

2. آپ کے بھائی مرحوم(صابر)  نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں مذکورہ گھر  ، سونا،  نقدی، چاندی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب اس کا ترکہ یعنی میراث ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا۔ اس کے بعد دیکھا جائے اگر اس کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر اس نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اُس میں ورثاء کےحصے درجہ ذیل جدول میں درج ہیں:

ورثاء

عددی حصے

فیصدی حصے

بیٹی

20

50٪(نصف)

بیوی

5

12.5%(ثمن)

بہن  زیبا

3

7.5%(عصبہ بغیرہ)

چھوٹی بہن 1

3

7.5% (عصبہ بغیرہ)

چھوٹی بہن 2

3

7.5%(عصبہ بغیرہ)

بھائی  بابر

6

15%(عصبہ بنفسہ)

ٹوٹل

40

100٪

(نوٹ: یہ تقسیم اس وقت ہے جبکہ مرحوم کا بوقتِ وفات مذکورہ افراد کے علاوہ کوئی اور وارث نہ ہو، مثلاً   ماں یا بیٹا  وغیرہ)۔

3. پنشن کی رقم چوں کہ ادارہ کی طرف سے عطیہ ہوتی ہے، اس لیے اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی، مورث جس کو بھی زندگی میں اپنی پنشن  کے لئے نامزد کریں گے اُس کے انتقال کے بعد پنشن کی رقم صرف اُس  کے نامزد کردہ فرد کو ہی ملے گی (جیسا کہ عمومی طور پر اداروں کا ضابطہ ہے کہ ملازم کے نامزد کردہ فرد کو ہی پنشن کی رقم بطور عطیہ دیتے ہیں)۔

4. صابر کی میراث میں آپ  اور اُس کے دیگر وارثوں کے حصّے نمبر 2 کے جدول میں ذکر کردیئے البتہّ آپ سے چھوٹی بہن کا انتقال چونکہ صابر کے انتقال سے پہلے ہوا ہے لہٰذا وہ صابر کے ورثاء میں شمار نہیں ہوگی۔

5. جو پیسے آپ نے وصول کیے تھے وہ والد کی میراث میں آپ کا حصہ تھا اور اب بھائی کی میراث میں آپ کا جو حصہ ہے وہ وصول کرنا ہے لہٰذا اس کی  کٹوتی اس تقسیم میں نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 197)

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة " . رواه ابن ماجه

{لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا (7) } [النساء: 7، 8]

{وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ} [النساء: 11]

{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ } [النساء: 12]

عنایت اللہ عثمانی

دارالافتا ءجامعۃ الرشید، کراچی

25 جمادی الثانیۃ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب