03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مضاربت کے طور پر دی گئی رقم کےضمان کا حکم
78790زکوة کابیانان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی

سوال

مضاربت کے طور پر دی گئی رقم میں منافع کا قطعی کوئی امکان نہیں، نیز کرنسی کی قیمت بھی کافی حد تک گر جانے کی وجہ سے ہم کافی نقصان میں پڑ چکے ہیں، چونکہ قابض دوسرا شریک ہے اس لیے بتایے کہ وہ خسارہ میں کس حد تک ذمہ دار ہو گا؟ فضول خرچیوں میں رقم اڑانے سے منافع کا ذمہ دار وہ شخص بنتا ہے، لہذا قانونی اور شرعی طور پر میرا حق کیا اور کتنا بنتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   مضاربت کا معاملہ کرتے وقت فریقین کے درمیان کاروبار کے اصول وضوابط کا طے ہونا ضروری ہے، پھر اگر مضارب (مضاربت میں کام کرنے والا فریق) ان اصولوں کی خلاف ورزی کرے تو وہ نقصان کا ضامن ہوتا ہے اور اگر معاملہ کرتے وقت فریقین کے درمیان کوئی اصول اور شرائط طے نہ ہوئی ہوں توبھی مضارب پر لازم ہے کہ وہ عرف میں رائج عام کاروباری اصولوں کومدِ نظر رکھتے ہوئے کاروبار کرے، لہذا اگر کسی وجہ سے کاروبار میں کوئی نقصان ہو جائے تو اس صورت میں تاجروں کے عرف کے مطابق اس پر نقصان کے ضمان کا فیصلہ کیا جائے گا، یعنی جس سبب سے نقصان ہوا اس کا جائزہ لیا جائے گا، اگر تاجروں کے عرف میں وہ سبب مضارب کی کوتاہی اور غفلت میں شمار ہوتا ہو تو اس کا ضمان مضارب پر ڈالنا درست ہے، البتہ اگر کاروباری نقطہٴ نظر سے مضارب کی کوتاہی اور غفلت ثابت نہ ہو تو اس صورت میں نقصان کا ذمہ دار مضارب نہیں ہو گا، بلکہ تمام نقصان سرمایہ کار (Investor)ہی برداشت کرے گا، البتہ اس صورت میں مضارب اپنے کام کی وجہ سے کسی قسم کی اجرت کا مستحق نہیں گا۔

جہاں تک کرنسی کی قیمت کم ہونے کا تعلق ہے تو شرعاً اس کو مضارب کی غفلت نہیں کہا جائے گا، کرنسی کی قیمت کم ہونے وجہ سے ہونے والے نقصان کا ذمہ دار مضارب نہیں ہو گا۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 273) نور محمد، تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1414) يكون المضارب في المضاربة المطلقة مأذونا بالعمل في لوازم المضاربة والأشياء التي تتفرع عنها بمجرد عقد المضاربة , فلذلك له أولا: شراء المال لأجل بيعه والربح منه , لكن إذا اشترى مالا بالغبن الفاحش يكون اشتراه لنفسه ولا يدخل في حساب المضاربة , ثانيا: له البيع سواء كان بالنقد أو بالنسيئة بثمن قليل أو كثير لكن له الإمهال للدرجة الجاري العرف والعادة فيها بين التجار. ثالثا: له قبول الحوالة بثمن المال الذي باعه. رابعا: له توكيل شخص آخر بالبيع والشراء. خامسا: له إيداع مال المضاربة والبضاعة والرهن والارتهان والإيجار والاستئجار. سادسا: له السفر إلى بلدة أخرى لأجل البيع والشراء.

 

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

14/جمادى الاخرى 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب