03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جنرل پراویڈنٹ فنڈ میں اختیاری اضافہ لینے کا حکم
79168سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

ریگولر سرکاری ملازمین جب ملازمت شروع کرتے ہیں تو GPF سکیم اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس سکیم کے تحت ہر ملازم کی تنخواہ سے اس کے اسکیل کے مطابق ماہانہ کچھ کٹوتی کی جاتی ہے جو ریٹائرمنٹ کے موقع پر یکمشت لوٹا دی جاتی ہے۔ اس سکیم کو اختیار کرتے وقت ملازم کو اختیار ہوتا ہے، وہ اپنی مرضی سے GPF کو منافع (Interest) کے ساتھ بھی رکھ سکتا ہے اورمنافع (Interest) کے بغیر بھی رکھ سکتا ہے۔ منافع کے ساتھ رکھنے کی صورت میں محکمہ ہر سال تقریبا بارہ (12) فیصد رقم، جمع شدہ رقم کے ساتھ اضافی دیتا ہے، اس طرح وہ رقم ہر سال بڑھتی جاتی ہے۔ منافع کے بغیر GPF رکھنے کی صورت میں صرف ملازم کی اپنی جمع شدہ رقم اکھٹی ہوتی رہتی ہے۔ ہر سال ملازم کو  GPF کی ایک تفصیل (Statement) جاری کی جاتی ہے جس سے ملازم کو بیلنس کا پتا چلتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ GPF اکاؤنٹ منافع کے ساتھ (With Interest) رکھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پراویڈنٹ فنڈ پر انٹرسٹ کے نام سے ملنے والی رقم شرعی اعتبار سے سود نہیں، بلکہ تنخواہ ہی کا ایک حصہ ہے، لہٰذا اگر ملازم کی اصل ملازمت جائز ہو تو اس کا لینا فی نفسہ جائز ہے، لیکن جب "انٹرسٹ فری پراویڈنٹ فنڈ" کی سہولت موجود ہو تو اضافی رقم لینے سے اجتناب کرنا چاہیے؛ کیونکہ اس میں سود کی مشابہت ہے، لہٰذا یا تو محکمہ سے اضافی رقم وصول نہ کرے یا وصول کر کے صدقہ کرے۔  

واضح رہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب پراویڈنٹ فنڈ کی رقم متعلقہ محکمہ اپنے اکاؤنٹ میں رکھتا ہو یا ملازم کی اجازت کے بغیر کسی اور ٹرسٹ یا ادارے کو دیتا ہو۔ لیکن اگر متعلقہ محکمہ یہ رقم ملازم کی اجازت سے کسی مستقل اور خود مختار ٹرسٹ یا ادارے کو دیتا ہو تو پھر اگر وہ ادارہ اس رقم کو کسی جائز کام میں لگاکر ملازم کو نفع میں سے کچھ حصہ دیتا ہو تو ملازم کے لیے وہ لینا جائز ہوگا، لیکن اگر ایسا نہ ہو، بلکہ وہ ٹرسٹ یا ادارہ ملازم کی رقم کو کسی ناجائز کاروبار میں لگاتا ہو یا وہ اس کو بطورِ قرض لے کر ملازم کو اس پر کچھ اضافہ دیتا ہو تو پھر ملازم کے لیے وہ اضافہ لینا جائز نہیں ہوگا۔    

(باستفادۃٍ من جواہر الفقہ:3/283-276)

حوالہ جات

سنن الترمذي (4/ 668):

حدثنا أبو موسى الأنصاري حدثنا عبد الله بن إدريس حدثنا شعبة عن بريد بن أبي مريم عن أبي الحوارء السعدي قال: قلت: للحسن بن علي ما حفظت من رسول الله صلى الله عليه و سلم؟ قال: حفظت من رسول الله صلى الله عليه و سلم: دع ما يريبك إلى مالا يريبك؛ فإن الصدق طمأنينة، وإن الكذب ريبة.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

     2/ رجب المرجب/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب