| 79261 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
آج سے تقریباً تین سال قبل میری شادی ہوئی تھی، لیکن مستقل شوگر، گردے کی خرابی کی وجہ سے شادی کے 9 ماہ بعد ہی اہلیہ مجھے چھوڑ کر اپنی والدہ کے گھر چلی گئی۔ مَیں نے دارالافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ، علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی سے مسئلہ دریافت کیا، تو انہوں نے مجھے یہ مشورہ دیا تھا کہ ایک مرتبہ آپ لوگ لڑکی والوں سے بات چیت کرکے اُنہیں منانے کی کوشش کریں، نہ ماننے کی صورت میں طلاق میں دے کر معاملہ ختم کرسکتے ہیں۔ لہٰذا مَیں نے ایک عالِم کی نگرانی میں طلاق نامہ لکھا، جس میں یہ لکھا تھا کہ "مَیں ایک بار طلاق دیتا ہوں۔" اِس بات کو 3 ماہ گزرچکے ہیں، لیکن لڑکی والوں نے ہم سے کوئی رجوع نہیں کیا ہے، بلکہ لڑکی نے عدّت بھی پوری کرلی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اُس لڑکی پر 3 طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ اگر اُس پر 3 طلاقیں واقع ہوئی ہیں، کیا میرے ذمہ میں اُس کے لیے عدّت کی رقم بنتی ہے؟
وضاحت: سائل نے بذریعہ فون یہ واضح کیا ہے کہ سوالِ بالا میں مذکور "عدت کی رقم" سے اُن کا مقصد یہ پوچھنا ہے کہ چونکہ لڑکی اپنی مرضی سے شوہر کو چھوڑ گئی ہے، اور بارہا مَنانے اور بُلانے کے باوجود واپس نہیں آئی، لہٰذا مجبور ہوکر طلاق دینی پڑی، اور لڑکی نے عدت بھی اپنے والدین کے گھر میں گزاری ہے، اِس صورت میں بیوی کے لیے دورانِ عدت کا نفقہ شوہر پر لازم ہے یا نہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکرکردہ صورت میں عورت پر ایک صریح طلاق واقع ہوئی ہے، تاہم چونکہ عورت کی عدت مکمل ہوچکی ہے، لہٰذا اگر زوجین دوبارہ رجوع کرنا چاہیں تو نکاحِ جدید کے بغیر رجوع نہیں کرسکتے، اور شوہر پر بیوی کی عدتِ طلاق کا نفقہ لازم نہیں ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (3/246):
"ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب: يا فلانة! إذا أتاك كتابي هذا، فأنت طالق، طلقت بوصول الكتاب."
رد المحتار (10/497):
"قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا، مثل ما يكتب إلى الغائب ... وإن كانت مرسومة، يقع الطلاق نوى أو لم ينو. ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد! فأنت طالق، فكما كتب هذا، يقع الطلاق، وتلزمها العدة من وقت الكتابة."
الدر المختار (3/575):
"(لا) نفقة لأحد عشر ... و (خارجة من بيته بغير حق)، وهي الناشزة، حتى تعود."
رد المحتار (13/157):
"(قوله: بخلاف حرة نشزت إلخ) أي: أن الحرة إذا نشزت فطلقها زوجها، فلها النفقة والسكنى إذا عادت إلى بيت الزوج."
محمد مسعود الحسن صدیقی
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
08/رجب الخیر/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


