03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سات بیٹی اور آٹھ بھتیجوں میں میراث کی تقسیم
76546میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

محترم مفتیانِ کرام السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم جناب باور خان صاحب کا  انتقال12 اکتوبر 2017 کو ہوا۔ مرحوم نے سوگواران میں 7 بیٹیاں اور 8 بھتیجے چھوڑے ہیں۔

جناب باور خان صاحب مرحوم کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی؟ ازروئے شریعت میراث کی تقسیم کے حوالے سے رہنمائی فرماکر مشکور فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا

 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں مذکور ورثہ میں  میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ مرحوم کی کل میراث کے دوتہائی حصے7 بیٹیوں میں  برابرتقسیم ہوں گے،اوراس کےعلاوہ باقی رقم 8بھیتجوں میں برابربرابرتقسیم ہوگی ۔

اگرعددی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتوکل میراث کے168 حصےکیےجائیں گے، بیٹیوں میں سےہربیٹی کو 16حصےاورہربھتیجےکو 7حصےدیےجائیں گے۔

اوراگرفٰیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتوکل میراث کا% 66.666 حصہ 7 بیٹیوں میں برابر تقسیم کیاجائے،یعنی ہربیٹی کو 9.52380فیصد حصہ دیاجائےگا،اس کےعلاوہ باقی 33.333%فیصد 8 بھتیجوں میں برابرتقسیم کیاجائے۔یعنی ہربھتیجے کو 4.16666فیصدحصہ دیاجائےگا۔

حوالہ جات

"السراجی فی المیراث"19:احوال بنات الصلب:وامالبنات الصلب فأحوال ثلث:النصف للواحدۃ،والثلثان للاثنین فصاعدۃ،ومع الابن للذکرمثل حظ الانثیین وھو یعصبھن۔۔۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

  14/رمضان  1443 ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب