| 78862 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
فرض نماز میں نابالغ بچہ ہو توکیانماز میں کراہت آتی ہے ؟مسجد میں بچوں کو کھینچ کر پیچھے کردیتے ہیں ، اس بارے میں کیا حکم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگر ایک ہی نابالغ بچہ ہو تواس کو بالغوں کے صف میں کھڑا کیا جائے ،نماز ہوجائی گی نماز کی صحت پر کوئی فرق نہیں آئے گا، اور اگر ایک سے زیادہ بچے ہیں توبھی اس زمانے میں بہتر یہی ہے کہ ان کو بالغوں کے صف میں کھڑا کیاجائے ، کیوں کہ دو یازیادہ بچے ایک جگہ جمع ہو کر شور وشغب کرکے نہ صرف اپنی نماز خراب کریں گے ،بلکہ دوسروں کی بھی نماز میں خلل پیداکرنے کاسبب بنتے ہیں ، نیز امام کے بالکل پیچھے کھڑانہ کریں ،کیونکہ امام کےقریب بالغ سمجھ دار لوگوں کوکھڑاکرنے کاحکم ہے ،باقی کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بچہ کو کھینچ کر پیچھےصف میں کھڑاکردیں،اس سے بچےمسجدسےدورہوسکتےہیں
حوالہ جات
وإن لم يكن جمع من الصبيان يقوم الصبي بين الرجال ).طحطحاوی :308)
ربما يتعين في زماننا إدخال الصبيان في صفوف الرجال؛لأن المعهود منهم إذا اجتمع صبيان،فأكثر تبطل صلاة بعضهم ببعض،و ربما تعدي إلي إفساد الرجال. (تقریرات الرافعی علی ھامش ردالمحتار:2/377)
و يصف الرجال ثم الصبيان ثم النساء؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: ليليني منكم أولو الأحلام والنهى... أن الصبيّ الواحد لايكون منفردًا عن صف الرجال بل يدخل في صفهم، و أن محلّ هذا الترتيب إنما هو عند حضور جمع من الرجال و جمع من الصبيان فحينئذ تؤخر الصبيان. ( البحرالرائق : 1/374)
محمدادریس
دارالافتاء،جامعۃ الرشید، کرچی
12/جماد ی الاولی /1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


