03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سواری پر نماز پڑھنے کے دوران قبلہ رُخ ہونے کا حکم
79005نماز کا بیانسنتوں او رنوافل کا بیان

سوال

گاڑی پر نماز پڑھتے ہوئے کیاقبلہ کی طرف رخ ہونا ضروری ہے یا نہیں؟اگر ضروری ہے تو اگر گاڑی نماز کے دوران قبلہ سے پھر جائے تو اس کاکیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سواری پر نفل نماز پڑھنے کے دوران قبلہ رُخ ہونا ضروری نہیں، بلکہ جس طرف بھی سواری کا رُخ ہو نفل پڑھنا جائز ہے، کیونکہ احادیث میں صراحت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل پڑھا کرتے تھے، جبکہ سواری کا رُخ غیرِ قبلہ کی طرف ہوتا تھا۔البتہ فرض نماز کی ادائیگی کے لیے قبلہ رُخ ہونا ضروری ہے،  لیکن اگر قبلہ کا علم نہ ہو اور کوئی بتانے والا بھی موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں خود ہی غور وغوض کر کے جس طرف دل کا میلان جائے اسی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لینا جائز ہے، نیزاگر قبلہ رُخ ہو کر فرض نماز ادا کرنا شروع کی اور پھر گاڑی گھوم گئی ، جس سے نمازی کا رُخ قبلہ سے پھر گیا تو ایسی صورت میں نماز پڑھنے والے پر لازم ہے کہ وہ  دوبارہ قبلہ کی جانب پِھر جائے۔

واضح رہے کہ حنفیہ کی بعض عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر نمازی کسی عذر مثلا دشمن یا درندے وغیرہ  کے خوف سے قبلہ سے  انحراف کرے تو اس کی نماز درست ہو جائے گی، نیز شافعیہ کا بھی یہی مذہب معلوم ہوتا ہے اور اس کی دلیل میں قرآن کریم کی آیتِ مبارکہ {وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ } [البقرة: 144] ذکر کی گئی ہے۔لیکن یہ انتہائی مجبوری کی صورت میں ہے، عام حالات میں اس کی اجازت نہیں ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 63) الباب الثالث فی شروط الصلوٰۃ،دار الفكر،بيروت:

مريض صاحب فراش لا يمكنه أن يحول وجهه وليس بحضرته أحد يوجهه يجزيه صلاته إلى حيثما شاء. كذا في الخلاصة وكذا إذا كان يجد من يحوله ولكن يضره التحويل. هكذا في الظهيرية. ومن كان خائفا يصلي إلى أي جهة قدر. كذا في الهداية.

ويستوي فيه الخوف من عدو أو سبع أو لص وكذا إذا كان على خشبة في البحر وهو يخاف الغرق إذا انحرف إلى القبلة هكذا في التبيين وكذلك إذا صلى الفريضة بالعذر على دابة والنافلة بغير عذر فله أن يصلي إلى أي جهة توجه. كذا في منية المصلي.

ومن أراد أن يصلي في سفينة تطوعا أو فريضةفعليه أن يستقبل القبلة ولا يجوز له أن يصلي حيثما كان وجهه. كذا في الخلاصة حتى لو دارت السفينة وهو يصلي توجه إلى القبلة حيث دارت. كذا في شرح منية المصلي لابن أمير الحاج.

وإن اشتبهت عليه القبلة وليس بحضرته من يسأله عنها اجتهد وصلى. كذا في الهداية.

الاختيار لتعليل المختار (1/ 46) دار الكتب العلمية،  بيروت:

قال: (وإن كان خائفا يصلي إلى أي جهة قدر) لقوله تعالى: {فأينما تولوا فثم وجه الله} [البقرة: 115] ويستوي فيه الخوف من العدو والسبع، أو أن يكون على خشبة في البحر يخاف إن توجه إلى القبلة غرق لتحقق العجز بالعذر.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 627) دار الفكر-بيروت:

(قوله بغير عذر) قال في البحر في باب شروط الصلاة: والحاصل أن المذهب أنه إذا حول صدره فسدت، وإن كان في المسجد إذا كان من غير عذر كما عليه عامة الكتب اهـ

البحر الرائق ومنحة الخالق تكملة الطوري(1/ 394) دار الكتاب الإسلامي:

(قوله وإن خرج من المسجد بظن الحدث أو جن أو احتلم أو أغمي عليه استقبل) أما فسادها بالخروج من المسجد لتوهم الحدث ولم يكن موجودا فلوجود المنافي من غير عذر والقياس فسادها بالانحراف عن القبلة مطلقا لما ذكرنا لكن استحسنوا بقاءها عند عدم الخروج؛ لأنه انصرف على قصد الإصلاح؛ لأنه لو تحقق ما توهمه بنى على صلاته فألحق قصد الإصلاح بحقيقته ما لم يختلف المكان بالخروج.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

24/جمادى الاخرى 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب