03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایمازون لائبیلیٹی انشورنس کا حکم (Amazone)
79511جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ایمازون جو کہ ایک آنلائن سامان بیچنے والی کمپنی ہے۔جس میں کوئی بھی شخص ایک آن لائن سیلر اکاؤنٹ بنا کر اپنےسامان کو بیچ سکتا ہے۔اس کمپنی نے اب ایک پالیسی لاگو کی ہے۔جس کا نام ایمازون لائبیلیٹی  انشورنس ہے۔اس انشورنس کے تحت جو جو کوئی کسٹمر بھی ایمازون کے اس سیلر سےجو بھی سامان خریدتا ہےاور اس سامان سےاس کسٹمر کے جسم کو یااس کے گھر کو کوئی بھئی نقصان پہنچتا ہےاور کسٹمر اس کی کمپلین کرتا ہے،تو اس صورت میں جو بھی رقم ادا کرنی ہوگی وہ سیلر کے بجائے کمپنی والے ادا کریں گے۔یہ انشورنس ہمیں کسی دوسری کمپنی سے کروانی پڑتی ہےیا ایمازون نے جس کمپنی کے ساتھ پارٹنرشپ کی ہے اس کے ساتھ بھی کرسکتے ہیں۔جس کا سالانہ خرچ 500 سے ہزار ڈالر تک کا ہے۔یہ انشورنس ہر اس سیلر کو کروانا ضروری ہےجو مہینے میں دس ہزار ڈالر سے زیادہ کا سیل کرتا ہے۔ایمازون نے اس انشورنس کو لازمی قرار دی ہے۔

کیا ہم اس ویب سائٹ میں سیل کرسکتے ہیں یا نہیں؟اگر نہیں تو کیا کوئی حلال طریقہ ہے؟کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں کہ ہم ایمازون میں سیلر اکاؤنٹ بنائے، انشورنس بھی کروادیں اورسیل کریں۔پھر خدانہ خواستہ  اگر کبھی کوئی نقصان ہوتا ہے اور کمپنی اس نقصان کی رقم ادا  کرتی ہےاور یہ رقم اس رقم سے زیادہ ہو جو ہم نے اس انشورنس کمپنی کو دی ہے،تو ہم اپنی طرف سے اس زائد رقم کو صدقہ کردیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

انشورنس کمپنی سے کسی بھی  طرح کی پالیسی لینا سود،غرر(دھوکہ) اور قمار( جوّا)پرمشتمل ہونے کی وجہ سے   ناجائز اور حرام ہے،اسی طرح انشورنس پالیسی لینے پر اصل رقم سے جو زائد رقم ملتی ہے اس کا وصول کرنا بھی ناجائز ہے۔

لہٰذا مذکورہ صورت میں ایمازو ن پر اس انشورنس کا اگر کوئی اسلامی متبادل موجود ہو تو اس کے متعلق پوچھ کر اس پر عمل کیا جائے،لیکن اگر متبادل موجود نہ ہو اور آپ کے لئے یہ روزگار ناگزیرہو تو پھر اس صورت میں سوال میں ذکر کردہ طریقے کو اپنا کر زائد رقم پہلے تو وصول ہی نہ کی جائے اور اگر کسی وجہ سے وصول ہوجائے تو ادارے کو واپس کردی جائے لیکن اگر واپس کرنا بھی ممکن نہ ہو توبلا نیت ثواب فقراء پر صدقہ کردی جائےاور توبہ واستغفارکے ساتھ ساتھ کسی ایسے روزگار کی تلاش کی جائے جس میں کسی ناجائز کام کا ارتکاب نہ کرنا پڑے۔

حوالہ جات

(المائدة: 90)

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 99)

والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه۔

المبسوط (15/ 111)

والسبيل في الكسب الخبيث التصدق۔

محمدمصطفیٰ رضا

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

21/رجب/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب