03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نوٹ کھلے کروانے میں قبضہ کاحکم
78792خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس ایک ہزار یا پانچ سو کا نوٹ موجود ہے ہمیں چینج کی ضرورت ہے ہم کسی دوکان دار کے پاس پھٹکر( چینج) لینے کے لیے گئے اتفاق کی بات یہ ہے کہ ان کے پاس بھی پھٹکر پانچ سو یا ایک ہزار نہیں تھے تو اس نے کہا کہ کچھ رقم ابھی لے لیجیے اور کچھ تھوڑی دیر کے بعد لے لیجیے کیا اس طرح لین دین ربوا النسیئہ میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہوگا ؟ یا اسے قرض مان کر جائز قرار دیا جاسکتا ہے ؟ اکابر علماء کے فتاوی اس سلسلے میں مختلف ہیں ۔ لہذا راجح قول کی نشاہدہی فرماکر باحوالہ تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کرنسی کے تبادلہ کے وقت دونوں طرف کی کرنسی پراسی مجلس میں قبضہ ضروری ہے،ایک طرف سے ادہار رباالنسیئہ میں داخل ہے اورعلامہ کاسانی رحمہ اللہ تعالی نے اس قول کوصحیح قراردیاہے،نیزاس میں احتیاط کاپہلوبھی ہے،لہذانوٹ کھلاکرواتے وقت اسی مجلس میں دونوں پرقبضہ کیاجائے،اگرمکمل رقم موجود نہ ہوتوپھرابتداء سے قرض کامعاملہ کرلیاجائے اوربعد میں قرض اداکردیاجائے۔

حوالہ جات

فی فقہ البیوع:(721/2)

ان الائمۃ الحنفیۃ بالرغم من اختلافہم المذکور فی جوازالتفاضل فیہا،کلہم متفقون علی ان بیع الفلوس لیس صرفا،ومن ھذہ الجہۃ،افتی بعضہم بانہ لایجب فیہا التقابض فی المجلس،بل یشترط ان یقع قبض احدالبدلین فی المجلس،لئلایلزم الافتراق عن دین بدین۔ولکن ذکرالکاسانی رحمہ اللہ تعالی انہ یجب التقابض فی بیع الفلوس بعضہا ببعض،لالکونہ صرفا،بل لکونہ بیع فلس بجنسہ،والجنس بانفرادہ یحرم النسیئۃ عندالحنفیۃ۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (ج 12 / ص 12)

 وكذا إذا تبايعا فلسا بعينه بفلس بعينه فالفلسان لا يتعينان ، وإن عينا إلا أن القبض في المجلس شرط حتى يبطل بترك التقابض في المجلس لكونه افتراقا عن دين بدين .

ولو قبض أحد البدلين في المجلس فافترقا قبل قبض الآخر ذكر الكرخي أنه لا يبطل العقد ؛ لأن اشتراط القبض من الجانبين من خصائص الصرف ، وهذا ليس بصرف فيكتفى فيه بالقبض من أحد الجانبين ؛ لأن به يخرج عن كونه افتراقا عن دين بدين ، وذكر في بعض شروح مختصر الطحاوي رحمه الله أنه يبطل لا لكونه صرفا بل لتمكن ربا النساء فيه لوجود أحد وصفي علة ربا الفضل وهو الجنس ، وهو الصحيح .

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

    ۱۴/جمادی الثانی ۱۴۴۴ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب