| 78743 | طلاق کے احکام | عدت کا بیان |
سوال
طلاق ہونے کی صورت میں میری عدت کاکیاحکم ہے؟کیونکہ میری عمرزیادہ ہے اورآئیسہ ہوں میں ،اس صورت میں عدت ہوگی یانہیں؟
قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مطلوب ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس عورت کوماہواری نہ آتی ہوتواس کی عدت طلاق کے بعدتین مہینوں کاگزرجاناہے،اگرقمری مہینہ کی پہلی تاریخ کوطلاق دی گئی تھی توعدت مہینوں کے اعتبارسے شمارہوگی اوراگرکسی اورتاریخ میں دی گئی تھی تو90 دن عدت ہوگی۔
حوالہ جات
فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 11 / ص 54):
وفي المحيط إذا اتفق عدة الطلاق والموت في غرة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلة وإن أنقصت عن العدد وإن اتفق في وسط الشهر فعند الإمام تعتبر بالأيام فتعتد في الطلاق بتسعين يوما ، وفي الوفاة بمائة وثلاثين يوما۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۱/جمادی الثانی ۱۴۴۴ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


