03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حق مہر میں کمی کرنے کا حکم
79978نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

مفتی عبدالرحیم صاحب کے نام اسلام عليكم مفتی صاحب! تھوڑا وقت تبلیغی جماعت کے ساتھ لگایا، اسی لیے نیک بیوی کا خیال آیا اور ایک مسجد کے امام کے گھر رشتہ بھجوا دیا، وہ دور کے رشتہ دار تھے اور گھر والوں کو بہت پسند بھی تھے دونوں جانب سے تمام معاملات آپس میں طے ہوئے اور مجھے تفصیلات نہیں بتائیں گئیں، صرف نکاح کےلیے لاہور سے ملتان بلوا لیا اب نکاح فارم پر ہونے کی باری آئی تو 30 لاکھ حق مہر، 2 تولہ سونا، ایک شہر میں 25 لاکھ مالیت کا شہر میں گھر بیوی کے نام کروانا(میرا آبائی وطن گاؤں میں ہے) دوسری شادی یا طلاق کی صورت میں 20 لاکھ، اونچ نیچ کی صورت میں 30 ہزار ماہانہ دلہے کے ذمے جب میں نے سسر صاحب کو کہا کہ حق مہر زیادہ ہے تو انھوں نے کہا کہ بعد میں دے دینا، ساتھ میں بیٹھے آدمی نے تسلی کےلیے کہا کہ یہ سب فارمیلٹی ہے، ٹینشن نا لو دستخط کروا لیے، باہر جا کر میں نے ایک مفتی صاحب کو تفصیل بتائی تو انھوں نے کیا کہ شرعی نکاح جو مسجد میں ہونا تھا اس سے پہلے پہلے فارم دوبارہ پر کرواؤ، اب سبھی لوگ مسجد پہنچ گئے تھے اور نماز کے فوراً بعد سسر نے نکاح کا اعلان بھی کر دیا، میں نے انھیں باہر علیحدہ بلا کر بات کی کہ فارم دوبارہ پر کریں وہ نا مانے پھر وجوہات بھی بتائیں مفتی صاحب کا بھی بتایا تو انھوں نے کہا کہ ابھی اندر نکاح ہونے والا ہے بعد میں دیکھتے ہیں لیکن نکاح کے بعد کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ،اور جو کچھ لکھا گیا ہے وہ کبھی دینا پڑے تو ابو کو ساری زمین بیچنا پڑے گی میری 6 بہنیں ہیں جن کا وراثت میں باقی نہیں بچے گا کیا میرے والد محترم شہر میں گھر بنوا کر دے سکتے ہیں میری بیوی کے نا پر، کیونکہ شہر میں مکان کی ذمہ داری ان کے نام پر لکھی ہوئی ہے ابھی 8 ماہ گزر گئے ہیں رخصتی نہیں ہوئی، لیکن نکاح فارم 3 ماہ بعد رخصتی کا لکھا ہوا تھا، جبکہ اس دوران میں اپنی منکوحہ سے بہت دفعہ ازدواجی تعلق قائم کر چکا ہوں اور ہمارا آپس میں بہت پیار ہے میری بیوی نے کہا ہے کہ میں نے اس سے جو بھی لکھوانا ہے لکھوا سکتا ہوں لیکن کسی اور کو بتائے بغیر نکاح کے بعد میں بہت غصے میں تھا اور جواب دینے والا تھا کہ میں اب رخصتی نہیں کروں گا لیکن ایک تبلیغی بزرگ نے سمجھایا کہ چھوڑو سب کو اور اپنی بیوی سے بنا کے رکھو میرے ابو بوڑھے ہیں اور ان کے علاوہ گھر میں حق مہر اور دوسری تفصیلات کا کسی کو نہیں پتا تھا، مجھے بہت ٹینشن رہتی ہے اور خیال آتا ہے کہ اگر کبھی یہ مسئلہ عدالت تک گیا تو میں بہت انتہائی اقدام اٹھا لوں گا، اس کی وجہ سے پڑھائی کا بھی کافی نقصان ہو چکا ہے میرے سسر نے خیر المدارس سے حفظ کیا اور قاری بھی ہیں، کسی مدرسے میں پڑھاتے بھی ہیں. میری ساس مزاج کی بہت اچھی ہیں آپ سے گزارش ہے کہ مفید مشورہ دیں اور یہ بھی بتائیں شریعت اس بارے کیا کہتی ہے، نصیحت کے علاوہ شرعی فتوہ pdf میں email یا WhatsApp کر دیں اور اگر قانونی مشورہ دے سکتے ہیں تو وہ بھی ضرور بتائیں کیوں کہ میری زوجہ میرے ساتھ ہے جزاک اللہ خیرا کثیرا اسامہ اقبال بستی بچی والا، سامٹہ،تحصیل کروڑ لعل عیسن ،ضلع لیہ 17 فروری 2023 usamaiqbal8009@gmail.com 03039888009

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مہر عورت کا حق ہے اور شریعت نے فریقین کو اختیار دیا ہے کہ باہمی رضامندی سے مہر کی کوئی بھی مقدار مقرر کرسکتے ہیں بشرط یہ کہ وہ دس درہم سے کم نہ ہو۔ نکاح کے وقت فریقین جو مہر باہمی رضامندی سے طے کریں اسی کی ادائیگی شوہر پر لازم ہوگی۔ صورتِ مسؤلہ میں نکاح نامہ میں جو حق مہر لکھا گیا ہے،اگر نکاح کے موقع پر فریقین نے اسی مہر کا ذکر کیا اور کوئی کمی بیشی نہیں کی تو شوہر پر وہی مکمل مہرلازم ہوگا اور وہ اس کی ادائیگی کا پابند ہوگا، البتہ اگر بیوی  واقعۃً کسی قسم کے دباؤکے بغیر اپنا مہر دِلی رضامندی کے ساتھ معاف کردے تومہر معاف ہوجائے گا اور شوہر پر مہر اداکرنا لازم نہیں ہوگا۔

نکاح کے بعد رخصتی میں بلا عذرِ شرعی اور بغیر کسی انتہائی مجبوری کے تاخیر کرنا مستحسن نہیں ہے، اگرچہ نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلےمیاں بیوی کا ملنا اور آپس میں جنسی تعلقات قائم کرنا اگرچہ حلال وجائز ہے  لیکن  چونکہ نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلے ملنا معاشرہ میں اچھا نہیں سمجھا جاتا اس لیے بہتر یہی ہے  کہ جب نکاح ہو جائے تو پھر رخصتی میں دیر نہ کی جائے، اگر وسائل نہ ہوں تو بالکل سادگی سے رخصتی کر دی جائے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم: (النساء، الایۃ: 4)

﴿وَءَاتُوا۟ ٱلنِّسَاءَ صَدُقـتِهِنَّ نِحلَة فَإِن طِبنَ لَكُم عَن شَیء مِّنهُ نَفسا فَكُلُوهُ هَنِیۤـئًا مَّرِیئًا﴾

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 113)

(وصح حطها) لكله أو بعضه (عنه) قبل أو لا

البناية شرح الهداية (5/ 147)

(وإن حطت عنه من مهرها صح الحط) ش: يعني إن حطت المرأة عن الزوج من مهرها، صح الحط

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 369)

ومنها: هبة كل المهر قبل القبض عينا كان أو دينا وبعده إذا كان عينا

رد المحتار (9/ 178)

( هو ) عند الفقهاء ( عقد يفيد ملك المتعة ) أي حل استمتاع الرجل - من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي

احمد الر حمٰن

دار الافتاء، جامعۃ الرشید کراچی

23/شعبان/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احمد الرحمن بن محمد مستمر خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب