03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کٹے ہوئے ناخن اور بالوں کا حکم
79486جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا کٹے ہوئے ناخن اور بالوں کو زمین میں دفن کرنا ضروری ہے؟اگر آس پاس کچی جگہ نہ ہوتو اس صورت میں کیا حکم ہو گا۔دوسرا یہ بھی پوچھنا تھا کہ مجھے  دانتوں سے ناخن کاٹنے کی عادت ہے،کوشش کے باوجود ابھی تک چھوٹ نہیں رہی۔کیا اس  حوالے سے فقہ کی کتابوں میں کوئی بات ملتی ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کئے ہوئے ناخن اور بال دفن کر دینا بہتر ہے۔تاہم اگر ان کو دفن نہ کیا جا سکتا  ہو تو کسی محفوظ جگہ ڈال دیں، مگر گندی جگہ ڈالنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

دانتوں سے ناخن کاٹنا مکروہ ہے ، لہذا  اس عادت کو ترک کر دینا چاہیے۔ اس سے برص کی بیماری ہو سکتی ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:قوله:( ويستحب قلم أظافيره)،وقلمها بالأسنان مكروه يورث البرص، فإذا قلم أظفاره أو جز شعره ‌ينبغي أن ‌يدفنه، فإن رمى به فلا بأس ،وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل كره ؛لأنه يورث داء.(ردالمحتار:6/405)

قال جمع من العلماء رحمھم اللہ:فإذا قلم أطفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز. فإن رمى به فلا بأس ،وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك ؛لأن ذلك ‌يورث داء ،كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوی الھندیۃ:5/358)

محمد عمر بن محمد الیاس

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

9رجب،1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد عمر بن محمد الیاس

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب