| 79492 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھیل،گانے اور تصویر کےاحکام |
سوال
کیا شرط لگائے بغیر لڈو کھیلنا جائز ہے؟جبکہ اس دوران نماز وغیرہ کا اہتمام بھی رکھا جائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ ہر وہ کھیل جس میں نہ آخرت کا فائدہ ہو اور نہ دنیا کا، بلکہ وہ کھیل صرف انسان کے قیمتی اوقات کے ضیاع کا سبب ہو ، ایسے بے معنی اور بلافائدہ کاموں میں اپنے وقت کو ضائع کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔البتہ کسی شرط کے بغیر صرف تفریح طبع اور ذہنی ورزش کے لیے اگر کبھی کبھار کھیل لیا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔تاہم اس میں اتنا انہماک کہ جس سے بعد میں کہیں فرائض و واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی آنے لگے،جائز نہیں۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ: ویکرہ اللعب بالشطرنج والنرد والأربعۃ عشر؛ لقولہ علیہ السلام: کل لعب حرام الاّ ملاعبۃ الرجل مع زوجتہ وقوسہ وفرسہ ؛لأنہٗ یصد عن الجمیع والجماعات وسبب لوقوع فی فواحش الکلام.(البحرالرائق: 8/189)
قال العلامۃ علي بن أبي بكر المرغيناني : ويكره اللعب بالشطرنج والنرد والأربعة عشر وكل لهو؛ لأنه إن قامر بها فالميسر حرام بالنص،وهو اسم لكل قمار، وإن لم يقامر فهو عبث ولهو. وقال عليه الصلاة والسلام: لهو المؤمن باطل إلا الثلاث: تأديبه لفرسه ومناضلته عن قوسه وملاعبته مع أهله.(الھدایۃ:4/380)
(امدادالفتاوی:9/347)
محمد عمر بن محمدالیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
13رجب،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


