| 79596 | نکاح کا بیان | محرمات کا بیان |
سوال
کیا میرے لیےپھوپھی زاد بھائی یا پھوپھی زاد بہن کی بیٹی سے نکاح کرناجائز ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پھوپھی زاد بھائی کی بیٹی یا پھوپھی زاد بہن کی بیٹی چونکہ محارم میں سے نہیں ہے، لہٰذا اس سے نکاح کرنا جائز ہے (بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ مثلاً رضاعت وغیرہ بھی موجود نہ ہو)۔
حوالہ جات
قال اللہ تبارک و تعالی: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمً. (النساء:23)
وقال اللہ تبارک و تعالی: وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ.( النساء:24)
قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ: قوله:( وحرم به، وإن قل في ثلاثين شهرا ما حرم منه بالنسب) أي حرم بسبب الرضاع ما حرم بسبب النسب قرابة وصهرية في هذه المدة، ولو كان الرضاع قليلا لحديث الصحيحين المشهور: يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب.
محمد عمر بن محمدالیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
27رجب،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


