| 79734 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
بھنگ کی کاشت کے لیے کسی کو اجارہ پر زمین دینا جائز ہے یا نہیں؟ یہ تعاون علی المعصیۃ میں آتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آج کل چونکہ بھنگ کا غالب استعمال معصیت کے کاموں میں ہوتا ہے؛ اس لیے اس کی عمومی کاشت جائز نہیں، اس کے لیے زمین کرایہ پر دینا جائز نہیں، یہ تعاون علی المعصیۃ ہے، اس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔ تاہم اگر کسی نے اس کے باوجود بھنگ کی عمومی کاشت کے لیے زمین کرایہ پر دیدی تو حاصل شدہ اجرت کو حرام نہیں کہا جائے گا؛ کیونکہ بھنگ کا فی نفسہ جائز استعمال ممکن ہے۔
البتہ اگر کسی جائز مقصد مثلا دوا وغیرہ کے لیے بھنگ کی کاشت کی جائے تو چونکہ یہ جائز ہے، اس لیے ایسی صورت میں اس کے لیے زمین کرایہ پر دینا بھی بہر حال جائز ہوگا۔
حوالہ جات
القرآن الکریم،} [المائدة: 2]:
{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
فقه البیوع (1/194):
و یتلخص منه أن الإنسان إذا قصد الإعانة علی المعصیة بإحدی الوجو ہ الثلاثة (النیة، أو التصریح فی العقد، أو تمحضه للمحظور) المذکورة؛ فإن العقد حرام لا ینعقد، و البائع آثم. أما إذا لم یقصد ذلك و کان البیع سببا للمعصیة فلا یحرم العقد، و لکن إذا کان سببا محرکا فالبیع حرام، و إن لم یکن محرکا و کان سببا قریبا بحیث یستخدم فی المعصیة فی حالتها الراهنة و لا یحتاج إلی صنعة جدیدة من الفاعل کره تحریما، و إلا فتنزیها.
و علی هذا یخرج حکم بیع البناء أو إجارته لبنك ربوی، فإن قصد البائع الإعانة أو صرح فی العقد بکونه یستخدم للأعمال الربویة حرم البیع و بطل. و الظاهر أن المستأجر حینما یعقد البیع أو الإجارة لإقامة فرع للبنك مثلا؛ فإنه فی حکم التصریح بأن البناء یستعمل للأعمال الربویة. أما إذا بیع البناء أو أوجر لغرض آخر للبنك، مثل التخزین و غیره، فلا یدخل فی ذلك الحکم، و لیس سببا قریبا للمعصیة، فینبغی أن یجوز مع الکراهة تنزیها.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
9/ شعبان المعظم/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


