| 81213 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عربی کوعجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، لیکن دوسری طرف فرمایا کہ: سیّدوں کو زکوۃ نہیں دی جا سکتی کیوں کہ زکوۃ اور صدقات تو میل کچیل ہیں۔ پھر دوسری طرف سید آپس میں ایک دوسرے کو زکوۃ دیتے ہیں میل کچیل تو وہ تب بھی ہے؟ جزاک اللہ خیرا
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اصح قول کے مطابق سادات بھی آپس میں ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔
دوسری بات یہ کہ سادات کو زکوٰۃ نہ دینے کا جو حکم حدیث مبارکہ میں وارد ہوا ہے اس کی حکمت سے متعلق حضرت شاہ ولی اللہ اپنی کتاب ’حجۃ اللہ البالغہ‘ میں فرماتے ہیں:
’’اگر آپ اپنی ذات کے لئے زکوۃ لیتے یا اپنے خاندان کے لئے جائز قرار دیتے ، جن کا فائدہ آپ ہی کا فائدہ ہے، تو اندیشہ تھا کہ بدگمانی کرنے والے آپ کی شان میں نازیبا بات کہتے۔ وہ طعن کرتے کہ اپنی عیش کوشی کے لئے لوگوں پر ٹیکس لگایا ہے۔ اس لئے آپ نے اس درواز ہ کو بالکلیہ بند کر دیا اور صاف اعلان کر دیا کہ زکوۃ کی منفعت لوگوں ہی طرف لوٹنے والی ہے۔ فرمایا: تؤخذ من أغنيائهم، وتُرَدُّ على فقرائهم یعنی زکوۃ ان کےمالداروں سے لی جائے گی اور ان کے فقیروں پر لوٹا دی جائے گی (بخاری حدیث ۱۳۵۸) اور زکوۃ کا یہ نظام فقراء پر مہربانی، مساکین پر نوازش، حاجت مندوں کی خوش حالی اور ان کو فلاکت سے بچانے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ اس میں آپ کا اور آپ کے خاندان کا کچھ حصہ نہیں۔‘‘ (رحمۃ اللہ الواسعۃ؛78-79/4، ط؛زمزم پبلشرز)
حوالہ جات
حجۃ اللہ البالغۃ
وفي هذا الحكم سر آخر : وهو أنه صلى الله عليه وسلم إن أخذها لنفسه، وجَوَّزَ أخذها لخاصته، والذي يكون نفعهم بمنزلة نفعه، كان مظنَّةَ أن يَظُنَّ الظانون، ويقول القائلون في حقه: ماليس بحق، فأراد أن یَسُدَّ هذا الباب بالكلية، ويَجْهَرَ بأن منافعها راجعة إليهم، وإنما تؤخذ من أغنيائهم، وترد على فقرائهم رحمة بهم، وحدبًا عليهم، وتقريباً لهم من الخير، وانقاذا لهم من الشر.
الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني (12/ 226)
قال الشوكانى هذه مقدمة لنفى فضل البعض على البعض بالحسب والنسب كما كان فى زمن الجاهلية، لأنه إذا كان الرب واحد وأبو الكل واحد لم يبق لدعوى الفضل بغير التقوى موجب، وفى هذا الحديث حصر الفضل فى التقوى ونفيه عن غيرها وأنه لا فضل لعربى على أعجمى ولا لأسود على أحمر إلا بها، ولكنه قد ثبت فى الصحيح أن الناس معادن كمعادن الذهب خيارهم فى الجاهلية خيارهم فى الأسلام إذا فقهوا، ففيه اثبات الخيار فى الجاهلية ولا تقوى هناك وجعلهم الخيار فى الاسلام بشرط الفقه فى الدين، وليس مجرد الفقه فى الدين سببا لكونهم خيارا فى الاسلام وإلا لما كان لاعتبار كونهم خياراً فى الجاهلية معنى ولكان كل فقيه فى الدين من الخيار وإن لم يكن من الخيار فى الجاهلية، وليس أيضا سبب كونهم خيارا فى الأسلام مجرد التقوى. وإلا لما كان لذكر كونهم خيارا فى الجاهلية معنى ولكان كل متق من الخيار من غير نظر إلى كونه من خيار الجاهلية، فلا شك أن هذا الحديث يدل على أن لشرافة الأنساب وكرم النجار مدخلا فى كون أهلها خيارا، وخيار القوم أفاضلهم وإن لم يكن لذلك مدخل باعتبار أمر الدين والجزاء الأخروي، فينبغى أن يحمل حديث الباب على الفضل الأخروی.
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 138)
(و) لا إلى (بني هاشم) إلا من أبطل النص قرابته وهم بنو لهب، فتحل لمن أسلم منهم كما تحل لبني المطلب، ثم ظاهر المذهب إطلاق المنع، وقول العيني والهاشمي: يجوز له دفع زكاته لمثله صوابه لا يجوزنهر.
عمر فاروق
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
۱۶/صفر الخیر/۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


