03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو بار طلاق دے کر تیسری بار صرف لفظ طلاق کہنا
80397طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

 اگر کوئی شخص غصے کی حالت میں طلاق دے ،دو بار کہے اور تیسری بار پھر طلاق کہے تو رجوع کا طریقہ کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

غصہ کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ سوال میں پوچھی گئی صورت میں تین طلاق واقع ہوگئی ہیں اور اب رجوع کا طریقہ صرف حلالہ کی صورت میں ممکن ہے۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ بیوی عدت(حاملہ نہ ہو تو تین ماہواری اور حاملہ ہو تو بچے کی پیدائش) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرے اور ازدواجی تعلق قائم کرے، پھر دوسرا شوہر اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے تو بیوی پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔

حوالہ جات

{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230]

الفتاوى الهندية (1/ 472)

فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به  إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية

عمر فاروق

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۲۲/ذو القعدہ/۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب