| 80125 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ ایک مسجد میں ایک مولانا صاحب کا ایک سال قبل بطور خطیب تقرر ہوا جو کہ اپنے فرائض میں غفلت کا مرتکب ہے ،مولانا صاحب کی وجہ سے مسجد کے نمازیوں میں انتہائی کمی واقع ہوگئی ہے۔مولانا صاحب ہر جمعہ المبارک میں حدیث مبارک بیان کرنے کی بجائے اشتعال انگیز ا نفرت انگیز تقریر کرتا ہے، مسجد کے نمازیوں میں اور اہل علاقہ میں بہت زیادہ گروپ بندی پیدا کر دی ہے، ہر روز لڑائی جھگڑا کی ترغیب دے رہا ہے اور مسجد کی انتظامیہ کیخلاف بھی زہرانگیز تقاریر کر رہا ہے اورممبر رسول کے اوپر کھڑےہوکر دھمکیاں لگا تارہتا ہے کہ میرے بڑے بڑے لوگ سیکرٹریٹ لا ہو ر میں ہیں جن سے میرے تعلقات ہیں اور تنخواہ بھی اپنی مرضی کے مطابق وصول کر رہا ہے جس کی وجہ سے مسجد کے نمازیوں میں شد یدر رنج وغصہ پیدا ہو گیا ہے اورمولانا صاحب کی وجہ سے ہروقت لڑائی جھگڑے کا ماحول بن گیا ہے ،کسی بھی وقت نا خوشگوار واقعہ رونما ہوسکتا ہے۔ سؤال یہ ہے کہ کیا ایسے حالات میں ان مولانا صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایسے مسائل پر یک طرفہ فتوی لینا نہ مفید ہے اور نہ ہی اصول فتوی کی رو سے درست ہے، لہذا اس کے حل کے لیے کسی مستند دار الافتاء میں بالمشافہہ پیش ہوکر حکم معلوم کر لیں،البتہ جب تک کسی امام کے عقائد اہل سنت کےمتفقہ عقائد کے واضح طور پر خلاف نہ ہوں اس وقت تک ایسےامام کی اقتداء میں نماز درست ہے۔(احسن الفتاوی:ج۳،ص۲۸۹)
حوالہ جات
۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۳شوال۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


