03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مورث کے مال کی زکوۃ کا حکم
79986زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

میری والدہ  نے اپنی وراثت میں ایک دوکان سونا اور کچھ رقم چھوڑی ہیں۔ دوکان کے کرائے سے وہ اپنا گزر بسر کرتی تھی۔ والدہ  کی چھوڑی وراثت  کی زکوۃ کا حساب ہمارے پاس نہیں ہے،دوکان کی آمدنی سے والدہ اپنے گزر بسر کے ساتھ ساتھ اپنی بہنوں کی اور غریبوں کی مدد بھی کیا کرتی تھیں۔ اب ہمیں شریعت کے حساب سے بتائیں کہ ہمیں کتنی اور  کیسے زکوۃ دینی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میت کے مال کی زکوۃ ادا کرنا ورثاء کے ذمے واجب نہیں، البتہ اگر مورث نے ادائیگیئ زکوۃ کی وصیت کی ہوتو وہ ثلث( تہائی مال) سے ادا کی جائے گی۔اگر بلا وصیت ورثاء خود سے زکوۃ ادا کر دیں تو اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ سب ورثاء بالغ ہوں اور زکوۃ کی ادائیگی پر دل سے راضی بھی  ہوں، اس طرح اپنی طرف سے زکوۃ کی ادائیگی سے ان شاء اللہ  میت کے ذمے سے زکوۃ ساقط ہوجائے گی۔

زکوۃ   کرائے پر دی  ہوئی دوکان   کی مالیت پر نہیں، اس سے ملنے والے کرائے پر  ہے۔اگر  کرائے وغیرہ کی آمدنی جمع ہو، اور خرچ  وغیرہ کے بعد سال پورا ہونے  پرنصاب کے بقدر  باقی بچے تو اس پر زکوۃ ہے۔

آپ کی والدہ  کے مال کی زکوۃ کا  حساب چونکہ آپ کے  پاس نہیں ہے، زکوۃ کی ادائیگی کی ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ  خود سے اندازاً  سالوں کو شمار کر لیا جائے اور  ہر سال جتنا مال موجود ہونے کا خیال ہو، ڈھائی فیصد کے حساب سے اس کی زکوۃ ادا کر دی جائے، البتہ مال کا تخمینہ ایسا لگایا جائے جس میں کمی کا امکان نہ ہو، احتیاطا ً زیادہ مال کا اندازہ کرنا  مناسب ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 760):

"وأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي وإلا لا .....(قوله وأما دين الله تعالى إلخ) محترز قوله من جهة العباد وذلك كالزكاة والكفارات ونحوها قال الزيلعي فإنها تسقط بالموت فلا يلزم الورثة أداؤها إلا إذا أوصى بها؛ أو تبرعوا بها هم من عندهم، لأن الركن في العبادات نية المكلف وفعله، وقد فات بموته فلا يتصور بقاء الواجب اهـ وتمامه فيه، أقول: وظاهر التعليل أن الورثة لو تبرعوا بها لا يسقط الواجب عنه لعدم النية منه ولأن فعلهم لا يقوم مقام فعله بدون إذنه تأمل."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 263-265):

"(فلا زكاة على مكاتب وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها)

وقوله ونحوها: أي كثياب البدن الغير المحتاج إليها وكالحوانيت والعقارات."

  محمدفرحان

   دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

   23 / شعبان المعظم / 1444 ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب