03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں اولاد کو گھر دینا
80251ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

ہم دوبھائی،  دوبہنیں ہیں، والدہ بھی حیات ہے، والد محترم کا دو اڑھائی سال قبل انتقال ہوگیا ہے۔

والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی بڑی بہن کو اپنی جائداد میں سے گھرخرید کر نام پر کروا کردیا تھا، وہ بھی والد صاحب نہیں دینا چاہتے تھے ،والدہ کے کہنے پر بھی والد صاحب رضامند نہیں ہوئے، پھر میں (وقار) نے سمجھایا تب میرے اور  والدہ  صاحب کے اصرار پرمجبور ہوکر  گھردیا تھا اور اس شرط کے ساتھ کہ یہ گھر وراثت کے حصہ میں سے ہوگا، اور یہ تمام ورثاء اور بہن کے بھی علم میں ہے۔

اب مفتیانِ کرام کیا فرماتے ہیں کہ اس گھر کی تقسیم کیسے ہوگی؟ میراث میں اس کوشامل کیا جائے گا؟

اوراس کی قیمت اگرزیادہ ہوتو پھر بہن کو اپنے حصے کے علاوہ رقم دینی ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اپنی زندگی میں اولاد کوگھر دینا شرعی اعتبارسےہبہ ہے،اور ہبہ میں قبضہ ضروری ہے،اس لیے  اگر والدنے قبضہ دیا ہے اس طور پر  کہ اس گھر سےاپنے تصرفات ختم کرکے ، اس کے تمام حقوق اور سارے متعلقہ امور سے دستبردار ہوکر بیٹی کے حوالے کردیا ہو تویہ گھر بیٹی کی ملکیت میں آگیا ہے،لہذا اس کو والد کے ترکے میں شامل کرکے میراث میں تقسیم نہیں کیاجاسکتا۔

اگر قبضہ نہ دیا ہو بلکہ فقط نام کردیاہو یا صرف زبانی بات کی ہوتو پھر یہ گھر بیٹی کی ملکیت میں نہیں آیا ہے،لہذا وہ میراث کا حصہ بن کر ورثہ کے درمیان اپنے حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔

یہ بات واضح رہے کہ گھر کی ملکیت بیٹی کو منتقل ہو یا نہیں ،بہرحال وہ میراث سے محروم نہیں ہوگی،والد کی وفات کے بعد میراث میں  بھی حصہ  ملے گا۔

حوالہ جات

وفی الھندیۃ (4/ 378):

"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول  العمادية".

وفي الدرالمختار(6/259):

 (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والاصل أن

الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط لأن كلا منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به لأن شغله بغير ملك واهبه لا يمنع تمامها كرهن وصدقة لأن القبض شرط تمامها

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

07/ذیقعدہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب