| 78741 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
محترم جناب مفتی صاحب!السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ !
سلام کے بعد عرض ہے کہ ہمارا ایک گھر ہے جو تہارو مینگل گوٹھ مسلم ٹاؤن نزد گلشن معمار سکٹر پانچ گڈاپ ٹاؤن کراچی میں واقع ہے، ایک سو بیس مربع گز پر مشتمل ہے وہ گھر ہم نے ایک شخص شیر بہادر نامی کو کرا ۓ پر دیا تھا، چار سال تک وہ شخص کرایہ وقت پر دیتا رہا ، پھر گزشتہ تین سال سے ٹال مٹول کرنے لگا اور اب ہمارے گھر پر قبضہ کر لیا ہے اور والد صاحب سے شناختی کارڈ کی کاپی دھوکہ سے لی اور ساتھ میں ایف آئی آر کی کاپی لی اور اس بناء پر گھر کی جھوٹی فائل بنائی ہوئی ہے اور ساتھ میں تین جھوٹے گواہ بھی تیار کر لیے جو کہ جھوٹی گواہی دینے پر امادہ ہیں،لہذا آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کی رو سے ہماری راہنمائی کی جائے۔ والسلام
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سوال مٰیں مذکورہ واقعہ حقیقت کے مطابق ہے تو شریعت کی نصوص کی روشنی میں اس شخص پر لازم ہے کہ اب تک کئے پر توبہ واستغفارکرے اورمکان فوراً مالک کو واپس کرکے معافی مانگے،ورنہ قیامت کے دن سخت وعیدوں کامستحق ٹھہرے گا،جھوٹی گواہی اورجعلی فائل بنانے سے وہ مکان کا مالک نہیں بنے گا۔
زمین پر نا حق قبضہ کرنا حرام ہے،قرآن وحدیث میں اس پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں:
قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
{يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم}
[النساء: 29]
ترجمہ :"اے ایمان والو!آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ،الا یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضامندی سے وجود میں آئی ہو(تو وہ جائز ہے)۔"
حدیث میں آتا ہے :
عن يعلى بن مرة، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " أيما رجل ظلم شبرا من
الأرض، كلفه الله عز وجل أن يحفره حتى يبلغ آخر سبع أرضين، ثم يطوقه إلى يوم القيامة حتى
يقضى بين الناس "( مسند أحمد :29/ 111)
ترجمہ:حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :" جو شخص بالشت برابر بھی زمین کا کوئی حصہ ناحق لیتا ہے، اللہ تعالی اسے قیامت کے دن اس بات پر مجبور کرےگا کہ وہ اسے ساتویں زمین تک کھودے، پھر وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا ،یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔"
عن أبي مالك الأشجعي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أعظم الغلول عند الله ذراع من الأرض، تجدون الرجلين جارين في الأرض أو في الدار، فيقتطع أحدهما من حظ صاحبه ذراعا، فإذا اقتطعه طوقه من سبع أرضين إلى يوم القيامة» (مسند أحمد (29/ 334)
ترجمہ:" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ کے نزدیک سب سے بڑی خیانت زمین کے گز میں خیانت ہے، تم دیکھتے ہو کہ دو آدمی ایک زمین یا ایک گھر میں پڑوسی ہیں ، پھر ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے میں سے ایک گز ظلما لے لیتا ہے، ایسا کرنے والے کو قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اس حصے کا طوق بنا کر گلے میں پہنایا جائے گا۔"
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
11/جمادی الثانیہ1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


