| 80131 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
ایک زمیندار ہمیں مال دے رہاہے ،ہم دنوں نے آپس میں باہمی رضامندی سے5فیصدکمیشن طے کیاہے جوشروع سے منڈی میں چل رہاہے،منڈی میں جومال آتاہے تواس کاایک اجتماعی ریٹ نکلتاہے یعنی منڈی میں کئی لوگوں کامال آتاہے جسے منڈی کے سمجھدار مل کرروز اس کاریٹ نکالتےہیں ،ہم نے باہمی خوشی طے کیاہے کہ جوبھی اجتماعی ریٹ ہوگااس سے کم پرمال فروخت ہوا تومجھے اس ریٹ پربل دیناہوگا اوراگرزیادہ پرفروخت کیا تب بھی مجھے اس اجتماعی ریٹ پربل دیناہوگا،کیایہ جائزہے؟یہ سوال کراچی کی سبزی منڈی کاہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مال کامالک زمیندارہے،آپ صرف کمیشن ایجنٹ ہیں، اصول یہ ہے جومال کا مالک ہوتاہے وہی نفع ونقصان کابھی مالک ہوتاہے،اس لئے مال جتنی قیمت اورنفع پرفروخت ہواہے اس کاحق دار زمیندارہے چاہے وہ منڈی کے طے شدہ ریٹ پر فروخت ہویااس سے کم وبیش قیمت پرفروخت ہو،کمی وبیشی کی صورت میں منڈی کے ریٹ کے مطابق بل بنانے کامعاہدہ کرنادرست نہیں،البتہ جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ پہلے زمیندارسے ایک قیمت طے کرکے سارامال خریدلیں،اگرچہ رقم ابھی نہ دیں،پھرآپ جس قیمت پرفروخت کرناچاہیں توفروخت کرسکتے ہیں،لیکن اس صورت میں کمیشن کی رقم لینادرست نہیں۔
حوالہ جات
۔۔۔۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۵/شوال ۱۴۴۴ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


