03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نماز میں سلام پھیرتے وقت سلام علیکم کہنے کاحکم
78717نماز کا بیاننماز کےمفسدات و مکروھات کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے محلے کے امام  صاحب سلام پھیرتے وقت  السلام علیکم کے بجائے سلام علیکم ایک طرف لازمی کہتے ہیں،دوسری طرف ٹھیک السلام علیکم کہتے ہیں،اور یہ امام صاحب کی عادت بن چکی ہے،جس پر ان کو مطلع کیا گیا تو انہوں نے قرآن پاک سے چند دلیلیں دیں،جیسا کہ  "سلام علی ال یاسین"، "سلام علی موسی وھارون" کیا ان کے اپنے فعل کے لیے ایسی دلیلیں دینا جائز ہے؟قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کے اس فعل کے بارے میں راہنمائی فرمادیں کہ یہ درست ہے یا غلط؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فقط "سلام علیکم" کہنا خلاف سنت ہے،یہ مکروہ عمل ہے،اس لیے اس سے رکنا چاہیے۔امام صاحب کی دلیل نماز میں سلام پھیرنے سے متعلق نہیں ہے۔

حوالہ جات

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 526):

قائلا السلام عليكم ورحمة الله) هو السنة، وصرح الحدادي بكراهة: عليكم السلام الدر

(قوله هو السنة) قال في البحر: وهو على وجه الأكمل أن يقول: السلام عليكم ورحمة الله مرتين، فإن قال السلام عليكم أو السلام أو سلام عليكم أو عليكم السلام أجزأه وكان تاركا للسنة، وصرح في السراج بكراهة الأخير. اهـ. قلت: تصريحه بذلك لا ينافي كراهة غيره أيضا مما خالف السنة

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

09/جمادی الثانیہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب