03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق ِدثلاثہ کاحکم
80111طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

مورخہ 2021/09/16کو جھگڑے کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے،کیونکہ حالات کے تحت خدشہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو نقصان پہنچائے، کیونکہ کافی عرصہ سے حالات ایسے بن جاتے تھے اوریہی لگتا تھا کہ میری بیوی مجھ سے ناخوش ہے ،عرصہ دس سال میں حقِ زوجیت بھی روٹین کے مطابق ادا نہیں کرسکا،روزہ مرہ کی زندگی تو ٹھیک ہی تھی مگر خاندانی باتوں پر اپنی بیوی سے معاملات جیسے ڈسکس کرنے چاہیے میں نہیں کرپا رہا  تھا ،زندگی کے معاملات میں بھی اپنی دلچسپی برقرارنہیں رکھ پاتا تھاجس کی وجہ سے میری بیوی مجھ سے ناخوش تھی ،مندرجہ بالا تاریخ کو ناراضگی زیادہ طول پکڑگئی اورمعاملہ یہ ہوگیا  کہ نہ صرف لکھ کر بلکہ زبانی بھی میں اسے تین مرتبہ طلاق دیدی ،اب ہم ایک ہی گھر میں ہیں ہمارایک بیٹا بھی ہے جوکہ ساتھ ہی رہتاہے،میاں بیوی والاتعلق نہیں ہے،وہ عدت کے دن گزاررہی ہے،برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کیونکہ طلاق دیتے وقت میری مرضی نہیں تھی،دباؤ کے تحت ہی میں نے لکھ کر اورزبانی تین طلاق دی تھی،کیاہمارے لیے اب میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنے کی گنجائش ہے؟میں نے طلاق کے لیے جوالفاظ استعمال کئے تھے وہ درجِ ذیل ہیں:

"میں محمد زاہد ولد عبد القیوم بقائمی ہوش وحواس اپنی زوجہ فوزیہ بنت غلام جیلانی کو طلاق دیتاہوں ۔

میں محمد زاہد ولد عبد القیوم بقائمی ہوش وحواس اپنی زوجہ فوزیہ بنت غلام جیلانی کو طلاق دیتاہوں ۔

میں محمد زاہد ولد عبد القیوم بقائمی ہوش وحواس اپنی زوجہ فوزیہ بنت غلام جیلانی کو طلاق دیتاہوں"

بیوی کابیان

میرا نام فوزیہ ہے،میں نے عرصہ دس سال مسلسل چپقلش سے تنگ آکراورروز بروز زاہد صاحب کے ناروا  رویہ کی بناء پر ان سے خلع کا مطالبہ کیا،کیونکہ نکاح کے باوجود میرے شوہر نے مجھ سے دوری اختیاررکھی تھی،اس عرصہ میں یہ معاملہ میں اپنی  والدہ ،بہنوں،ان کے بھائی (جوکہ میرے دیوربھی ہیں)اورسسرکے سامنے کئی مرتبہ اٹھاچکی ہوں،سب نے ان کو بہت سمجھایابھی مگر یہ اپنی عادتیں اوردلچسپیاں چھوڑکر میرے ساتھ ایک نارمل روٹین کی زندگی گزارنے کےلیے تیارنہیں ہوئے اورالٹامجھ پر ہروقت طعنہ زنی کرتے رہے اورخرچے کےلیے بھی تنگ کرتے رہے اورزہریلی باتیں کرنے میں بہت تیز ہوگئے،میری 52سال کی عمرمیں برداشت اب ختم ہوگئی ہے،میں بھی اب ان کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی اس لیے یہ کیا،میں شادی شدہ ہوکربھی ایک الگ زندگی گزررہی تھی،میرے شوہرکا بسترمجھ سے الگ تھا،ہاں کبھی مہینہ ،دومہینوں میں میرے پاس آتے تو میں نے بھی انکار نہیں کیا،بلکہ اپنی طرف سے ہر طرح سے کوشش کی کہ نارمل میاں بیوی کی طرح رہ سکیں ،ہمارا بیٹابھی 17سال کا ہے اس کےبھی باربارکہنے کے باوجود وہ میرے کمرے میں رہنے کےلیےتیارنہیں ہوئے، ان کی دلچسپی شروع سے ہی فلموں،ٹی وی میں ہے اوراب تو اس میں موبائل بھی شامل ہوگیاہے،پہلے دو دو ڈشیں لگارکھی تھیں ،نوکری سے گھر آکر ساراوقت صرف اسی مشغلے میں رہنا پسند کرتے ہیں ،ٹی وی کے سامنے ہی آنکھ بند کرناپسند کرتے ہیں ،اسی وجہ سے خاندانی اورگھریلوں معاملات میں ان کو کوئی دلچسپی نہیں ہے،تنخواہ میرے ہاتھ میں دیکرمجھے فل آزادی دے رکھی تھی کہ جو چاہے کروں،سسرال کے فیملی کے سب فرائض میں اکیلے ادا کرتی رہی ،اپنی جانی خدمت بھی کی اوربڑی بہوکے طور پر ان کے بہن،بھائیوں کی بھی اوراپنی بہنوں اورفیملی کے ساتھ بھی تعلق نبھایا، ان کی دی ہوئی تنخواہ کے علاوہ سلائی ،اسکول ٹیچنگ اورپھر آخر میں کپڑوں کا بزنس کرکے بھی جو کمایا سب کچھ گھر کےفرائض کی ادائیگی میں لگایا،آج میری فیملی، نندیں،دیور،محلے دار،ملنے جلنے والے سب ہی میری تعریفیں کرتے ہیں سوائے ان کے، ان کوصرف اورصرف اپنے آرام، اپنی ٹی وی اورموبائل کی مصرفیات سےغرض ہے،یہ صرف میرے ساتھ ایسے نہیں ہیں بلکہ اپنے ماں باپ،بہن بھائیوں،رشتے داروں میں بھی ان کو کوئی دلچسپی نہیں، جب بھی کسی معاملے میں ان کو جانا پڑتاہے تومجھے باتیں سناتے ہیں، میری 32،33سال کی اس محنت کا صلہ یہ ملا کہ اب خرچہ اپنے ہاتھ میں لیکر دن رات یہ کہتے ہیں کہ میں نے ان کو تباہ کردیا ہے،اس رشتے کو برقراررکھنے میں مجھے اب کوئی دلچسپی نہیں ہے،کیونکہ اس میں میرے لیے سوائے تنہائی ،طعنوں اوردل دکھانے کے کچھ بھی نہیں ہے،اللہ مجھے معاف کرے اب میں ان کےساتھ رہنا نہیں چاہتی ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسئولہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اورحرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے ،موجودہ حالت میں حلالہ کے بغیرآپ دونوں میں  نہ رجوع ہوسکتا ہے اورنہ ہی  نکاح ،لہذا اب آپ دونوں میاں بیوی کی طرح ساتھ نہیں رہ سکتے،عدت کےبعد فوزیہ آزاد ہے، جہاں چاہے کرسکتی ہے ۔

حوالہ جات

وفی القران المجيد[البقرة: 230]

{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ }

وفی احکام القرآن للشيخ ظفر احمد العثماني(رح):(۱/۵۰4)

﴿قوله تعالي: فان طلقها فلا تحل له حتي تنکح زوجا غيره﴾ اي انه اذا طلق الرجل امرأته طلقة ثالثة بعد ما ارسل عليها الطلاق مرتين فانها تحرم عليه حتي تنکح زوجا غيره اي حتي يطأها زوج اخر في نکاح صحيح.

فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152)باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد 2024

حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى  قال : قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك . قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم .

سنن البيهقي الكبرى - (ج 7 / ص 339)

أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني أنا أبو أحمد عبد الله بن عدي الحافظ نا محمد بن عبد الوهاب بن هشام نا علي بن سلمة اللبقي ثنا أبو أسامة عن الأعمش قال كان بالكوفة شيخ يقول سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة والناس عنقا وآحادا إذ ذاك يأتونه ويسمعون منه قال فأتيته فقرعت عليه الباب فخرج إلي شيخ فقلت له كيف سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول فيمن طلق امرأته ثلاثا في مجلس واحد قال سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق رجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة قال فقلت له أين سمعت هذا من علي رضي الله عنه قال أخرج إليك كتابا فأخرج فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فقد بانت منه ولا تحل له حتى تنكح زوجا غيره قال قلت ويحك هذا غير الذي تقول قال الصحيح هو هذا ولكن هؤلاء أرادوني على ذلك.

رد المحتار - (ج 10 / ص 448)

وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - { فماذا بعد الحق إلا الضلال}  وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف.

الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.

وفی بدائع الصنائع - (3 / 187)

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.

وفی أحكام القرآن للجصاص ج: 5  ص: 415

قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".

    سیدحکیم شاہ عفی عنہ

 دارالافتاء جامعۃ الرشید

       22/10/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب