| 80300 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہماری بہن رفعت جہاں زوجہ محمود احمد فاروقی جو کہ ایک گورنمنٹ استاد (Teacher)تھیں،ان کا بم دھماکے میں کوئٹہ میں انتقال ہوگیاتھا،انہوں نے وارثوں میں شوہر،دو بیٹے،ایک بیٹی اور والدہ کو چھوڑا۔ان کی وراثت،گریجویٹی اور ماہانہ پنشن کس طرح تقسیم ہوگی؟چونکہ والدہ کا جو بھی حصہ تھا وہ انہیں مطالبہ کے باوجود نہیں ملا،اب ا فرعت جہاں کی وفات 2006سے والدہ کی وفات 2008 تک کا حصہ وارثین مطالبہ کرسکتے ہیں؟والدہ کے انتقال کے بعد ان کی ایک بیٹی (نسرین جہاں زوجہ محمود احمد فاروقی)کا انتقال ہوچکا ہے ،جس کی کوئی اولاد نہیں،والدہ کی بقیہ اولاد جن کی تعداد تین لڑکے اور چھ لڑکیاں ہے، ابھی حیات ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔گریجویٹی فنڈ اور پنشن، ملازم کی خدمات کے اعتراف اور مالی تعاون کی نیت سے ملازم کو یا اس کے نہ ہونے کی صورت میں اس کی فیملی کے مخصوص افراد کو دی جاتی ہیں،لہذاجو رقم ملازم نے اپنی زندگی میں وصول کرلی ہو،یا وہ زندگی میں قانونی طور پر اس کا اس طرح حقدار ہوگیا ہو کہ وہ اس کا مطالبہ کرسکتا ہو تو وہ رقم اس کے ترکہ میں شامل ہوکر ورثہ میں تقسیم ہوگی،جبکہ وہ رقم جو اس کی زندگی میں اسے نہ ملی ہو اور نہ قانونی طور پر وہ اس کا اس طرح سے مستحق بنا ہو کہ اس کے مطالبے کا اسے حق حاصل ہوگیا ہو،بلکہ اس کی وفات کے بعد ادارے کی جانب سے اس کی فیملی کے مخصوص افراد کے نام جاری ہوئی ہوتو اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی،بلکہ خاص انہیں افراد کی ملک ہوگی جن کے نام ادارے کی جانب سے جاری کی گئی ہو۔
2۔رفعت جہاں نے فوت ہوتے وقت ترکہ میں جو کچھ چھوڑا تھا وہ سب ورثہ میں شرعی طور پر تقسیم ہوگا،جس کی صورت یہ ہے کہ تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے، میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:
1۔ شوہرکو 25 فیصد حصہ ملے گا۔
2۔والدہ کو16.67 فیصد حصہ ملے گا۔
3۔ ہر بیٹے کو23.33فیصد حصہ ملے گا۔
4۔ بیٹی کو 11.67فیصد حصہ ملے گا۔
3۔والدہ کی میراث بھی اس طریقے کے مطابق تقسیم ہوگی جو اوپر نمبر2میں گزرا ہے،اس میں ان کے اپنے مال ومتاع اور رفعت جہاں کے ترکے سے ملنے والا حصہ ملا کر ان کے ورثہ میں تقسیم ہوگا،جن میں نسرین زوجہ محمود احمد فاروقی سمیت تین بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں۔میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی۔
1۔ ہر بیٹے کو15.38فیصد حصہ ملے گا۔
2۔ہر بیٹی کو 7.69فیصد حصہ ملے گا۔
حوالہ جات
البحر الرائق " (8/ 5):
"قال - رحمه الله - (والأجرة لا تملك بالعقد، بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن منه) يعني الأجرة لا تملك بنفس العقد، سواء كانت عينا أو دينا وإنما تملك بالتعجيل أو بشرطه أو باستيفاء المعقود عليه وهي المنفعة أو بالتمكن من الاستيفاء بتسليم العين المستأجرة في المدة اهـ. كلام الشارح"
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
09/ذیقعدہ1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


