| 77832 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص کا نام تھا کفایت اللہ مرحوم،اس کی بیوی کا نام بی بی حامدہ،عمر فاروق ان کا بیٹا ہے،کفایت اللہ شاہ کی بیوی کا بھائی حسین احمد شاہ قطر میں ملازم تھا اور کفایت اللہ مرحوم پشاور یونیورسٹی میں ملازم تھا۔
حسین احمد شاہ نے کفایت اللہ کورقم ارسال کی تھی قطر سے کہ میرے لئے حیات آباد میں پلاٹ خریدو،کفایت اللہ نے حسین احمد شاہ کے لئے اس کی ارسال کی ہوئی رقم سے حیات آباد پشاور میں پلاٹ خریدلیا،چونکہ اس وقت حسین احمد شاہ قطر میں مقیم تھا،اس لئے کفایت اللہ نے پلاٹ اپنے نام پر سے حسین احمد شاہ کے لئے خرید لیا،بقول بی بی حامدہ کے پلاٹ خریدنے کے بعد میرے بھائی حسین احمد شاہ پاکستان آئے تو میں نے ان سے کہا کہ پلاٹ اپنے نام پر منتقل کرلو،حسین احمد شاہ نے کہا :کبھی لمبی چھٹی پر آکر منتقل کرلوں گا،اس دوران کفایت اللہ کا انتقال ہوا اور کفایت اللہ کے بی بی حامدہ سے اس وقت دو شیرخوار بچے تھےعمرفاروق دو سال کااور خدیجہ بی بی غالبا ایک سال کی تھی۔
کفایت اللہ مرحوم نے اپنی زوجہ بی بی حامدہ، اپنے والدین اوربہن بھائیوں کو وصیت کی تھی کہ یہ پلاٹ حسین احمد شاہ کا ہے،حسین احمد شاہ نے ہی مجھے پیسے ارسال کئے تھے،یہ حسین احمد شاہ ہی کی امانت ہے، کفایت اللہ کی وفات کے بعد حسین احمد شاہ پاکستان آئے تھے،لیکن چونکہ دونوں بچے نابالغ تھے اس وجہ سے پلاٹ کا انتقال نہیں ہوسکتا تھا،البتہ سن 2000 میں بی بی حامدہ نے پلاٹ کے جملہ اصلی دستاویزات حسین احمد شاہ کے حوالے کئے کہ کہیں مجھ سے گم نہ ہوجائیں،اپنے پلاٹ کے جملہ دستاویزات اپنے پاس رکھو۔
سن 2018 کے قریب یا سال دو آگے پیچھے پلاٹ کو بی بی حامدہ نے اپنے اور اپنے دونوں بچوں کے نام پر اس لئے منتقل کیا کہ اپنے بھائی حسین احمد شاہ کو اس کی امانت حوالہ کرکے اس کے نام پر پلاٹ قانونی طریقے سے متنقل کردے،لیکن جوں ہی پلاٹ بی بی حامدہ اور اس کے دونوں بچوں عمرفاروق اور خدیجہ بی بی کے ناموں پر منتقل ہوا، تو عمرفاروق جو اس وقت دودھ پیتا دو سال کا بچہ تھا دعوی کرتا ہے کہ پلاٹ میری میراث ہے،حالانکہ اس کی اپنی والدہ عمرفاروق کو یہی کہہ رہی ہے کہ یہ ہمارے پاس تمہارے ماموں حسین احمد شاہ کی امانت ہے اور باقاعدہ تمہارے والد کفایت اللہ مرحوم نے مجھے، اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو باقاعدہ وصیت کی ہے کہ یہ ہمارے پاس حسین احمد شاہ کی امانت ہے۔
لیکن عمرفاروق کہتا ہے کہ مجھے فتوی لا کرثبوت پیش کرو کہ یہ پلاٹ میری میراث نہیں ہے،تب میں یہ پلا ٹ اپنے ماموں کو حوالہ کرلوں گا-
لہذا اپ مفتی صاحبان حضرات کی خدمت میں عرض ہے کہ اس ضمن میں شرعی اصول کے عین مطابق تحریری شرعی فتوی جاری فرمائیں کہ کفایت اللہ مرحوم کی وصیت پر عمل ہو سکے اور حسین احمد شاہ کو اپنی امانت حوالہ کی جاسکے،تاکہ ہماری آخرت محض ایک پلاٹ کی وجہ سے تباہ وبرباد ہونے سے بچ جائے،اللہ تعالی ہم سب کوشریعت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میراث صرف ان چیزوں میں جاری ہوتی ہے جو بوقت انتقال مرحوم کی ذاتی ملکیت ہوں اور کسی چیز مثلا پلاٹ وغیرہ کے محض سرکاری کاغذات مرحوم کے نام پر ہونے سے شرعاً وہ اس کی مملوک نہیں بن جاتی،لہذا مذکورہ پلاٹ عمرفاروق کے والد کفایت اللہ شاہ کے نام پر ہونے کے باوجود اس کی ذاتی ملکیت نہیں تھا،چنانچہ مسئولہ صورت میں جب مرحوم کی بیوی،والدین اور بہن بھائی سب اس بات پر گواہ ہے کہ یہ زمین حسین احمد شاہ کی ملکیت ہے جو حسین احمد شاہ کے قطر میں مقیم ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر کفایت اللہ شاہ نےاس کے لئے خریدکر اپنے نام رجسٹر کروائی تھی اور اس حوالے سے کفایت اللہ شاہ نے اپنی بیوی،والدین اور بہن بھائیوں کو وصیت بھی کی تھی کہ پلاٹ حسین احمد شاہ کی امانت ہے،اسے واپس کردینا،تواب عمرفاروق کا اس پلاٹ کے حوالے سے یہ دعوی کرنا درست نہیں کہ یہ میرے والد کی میراث ہے،بلکہ اس کے ذمے لازم ہے کہ فوری طور پر اس پلاٹ کو حسین احمد شاہ کے حوالے کردے،تاکہ اس کے مرحوم والد کی وصیت پوری ہوجائے اور والد کے پاس رکھی گئی امانت اپنے اصل مالک تک پہنچ جائے۔
حوالہ جات
"فقہ البیوع" (1/ 226):
"وماذکرنا من حکم التلجئة یقاربہ ما یسمی فی القوانین الوضعیة عقودا صوریة...
وھی ان تشتری ارض باسم غیر المشتری الحقیقی وتسجل الارض باسمہ فی الجھات الرسمیة وذلک لاغراض ضریبیة او لاغراض اخری ولکن المشتری الحقیقی ھو الذی دفع ثمنہ.....
وکذلک القانون الوضعی فی بلادنا یعترف بان المشتری الحقیقی ھو الذی یدفع الثمن اما الذی سجل العقد باسمہ صورة،فانہ یعتبر امینا للمالک الحقیقی ووکیلا لہ لاتخاذ الاجراءات القانونیة".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
23/صفر1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


