| 80483 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میرے شوہرکے کافی عرصہ سے ایک عورت کے ساتھ ناجائز تعلق میں تھے، جس کا علم ہم گھر والوں کو ہوا۔ہماری کوشش تھی کہ اس عورت کو فوری چھوڑ دیں، لیکن اس دوران انہوں نے نکاح کے پیپر بنوا لیے جو باقاعدہ طور پر شرعا جائز نکاح مفتیان کی رائے کے مطابق ہو چکا تھا۔ مجھے اس بات کا علم ہوا اور میرے شوہر نے کہا کہ میں اسے تمہارے اور اپنے رشتے میں کبھی مداخلت کرنے نہیں دوں گا، مجھ سے انہوں نے قسم اٹھا کر کہا اگر وہ تمھیں برا بھلا کہے گی تو میں اسی وقت طلاق دوں گا۔اس عورت کے ساتھ میرا جھگڑا ہوا اس نے میرے بارے میں نازیبا الفاظ کہے، جس پر میرے شوہر نے وعدہ کے مطابق طلاق میسج پر لکھ کر دی، وائس میں بھی تین طلاق دے کر میسج ڈیلیٹ کر دیےاور میرے سامنے اللہ کی گواہی میں بھی کہا کہ میں اقراء اخلاق کو طلاق دیتا ہوں، جب میں نے کہا کہ میرے پاس ثبوت ہونا ضروری ہے تو کہنے لگے اللہ کی گواہی کافی ہے۔جتنی جلد بازی میں نکاح کیا اتنی جلد بازی میں طلاقیں بھی دے بیٹھے۔انہوں نے مجھے کہا کہ میں نے اپنے والد صاحب کو بھی یہ اس معاملے سے آگاہ کیا ہے، لیکن میرے سسر نے کہا کہ میرے شوہر نے انھیں یہ کہا کہ میں اسے چھوڑ رہا ہوں اور وہ خلع کے پیپر بجھوائے گی۔لیکن ان کے والد کو میں نے بتایا کہ یہ میرے سامنے طلاق دے چکے ہیں۔مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ بات ٹھوس ثبوت کے ساتھ بتانا ہو گی۔میرے شوہر کو احساس ہوا کہ انہوں نے جلد بازی میں بول تو دیا، لیکن اب اس سے تعلق بھی ختم کرنا ہوں گے، اس لیے کہنے لگے میں نے ایک طلاق زبانی دی ہے تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں میں نے یہ بات ریکارڈ کر لی اور میں نے انہیں کہا کہ آپ نے تین طلاقوں سے زیادہ دی ہیں، انہوں نے اللہ کی قسم اٹھا لی اور کہا ایک طلاق دی۔میں نے ان کا میسج پر لکھی طلاق سکرین شارٹ بھیجا تو کہنے لگے تمہارے پاس دو کا ثبوت ہے،جتنے ثبوت بس وہی طلاقیں دیں، یعنی میرے پاس ایک کی گنجائش ہے۔اس طرح انہوں نے اس گنجائش کے ساتھ اس عورت سے تعلق جاری رکھا۔انہوں نے مجھے یقین دلانا شروع کر دیا کہ میری حیثیت ان کے نزدیک زیادہ ہے اور بات بات پر اکثر کہہ دیتے تھے کہ میں تمہارے ساتھ دانستہ طور پر کسی قسم کی ناانصافی کروں تو اسے میری طرف سے تین طلاقیں۔میرے پاس تاریخوں اور وقت کے ساتھ ریکارڈ موجود ہے میں نے ان سے دو طلاقیں جو یہ مانتے تھے تحریر کروا کر دستخط کروا لیے۔میرے شوہر نے سفر پر جانا تھا ،مجھ سے وعدہ کر کے گئے کہ میں اس سے نہیں ملوں گا، مجھے اس بات کا علم ہو چکا تھا کہ یہ پھر جھوٹ بول رہے ہیں اور سفر سے واپسی پر مجھے کچھ ثبوت ملے کہ یہ اس سے ملے ہیں، جب ان سے پوچھا تو پہلے انکار کرتے رہے اور قسم اٹھا کہ کہا کہ اگر میں اس سے ملا ہوں تو وہ مجھ پر حرام میری طرف سے آخری طلاق ہو۔یعنی یہ اپنے طور پر جو تیسری طلاق کی گنجائش بناتے تھے وہ بھی دے دی۔میں نے ان کو ثبوت دکھائے تو انہوں نے اقرار کیا کہ یہ ملے تھے۔اس سارے واقعے کے میرے بچے بھی گواہ ہیں۔ میں نے اپنا بیان تین جگہ علمائے کرام کے پاس بھجوایا انہوں نے سنا اور دیکھ کر یہی کہا کہ میرے شوہر اور اس عورت کے مابین ازدواجی تعلق نہیں ہے یہ ایک دوسرے پر حرام ہیں۔فورا علیحدگی اختیار کریں، گناہ کبیرہ ہے، ان کا ساتھ رہنے کا عمل حرام ہے۔ کیا میرے شوہر نے جو طلاقیں دی ہیں تحریری اور زبانی ان کی کوئی حیثیت نہیں، جس عورت کو طلاق دی جائے اس کا سامنے ہونا ضروری ہے یا دو مردوں کا گواہ ہونا لازم ہے۔کیا ان ثبوتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے؟
وضاحت: سائلہ نے بتایا کہ میرے شوہر اب بھی طلاق کا انکار کر رہے ہیں، جبکہ انہوں نے تین طلاقیں پہلے زبانی دیں، پھر دو طلاق لکھ کر دیں، جو لکھی ہوئیں میرے پاس موجود ہیں اوروہ بھی ان کا اقرار کرتے ہیں پھر ایک طلاق جب دوسری بیوی سے مل کر گھر آئے تو اس وقت یہ کہتے ہوئے دی کہ اگر میں اس سے مل کر آیا ہوں تو وہ مجھ پر حرام ہے اور میری طرف سے آخری طلاق ہو۔ اس کے بعد انہوں نے بیوی سے ملنے کا اقرار کر لیا۔ اب میرے شوہر پہلی تین طلاقوں کا اور اس آخری طلاق کا انکار کر رہے ہیں۔اس سب صورتِ حال پر میں حلفیہ بیان دے سکتی ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ فی نفسہ طلاق کے وقوع کے لیے شرعاً کسی گواہی کی ضرورت نہیں، بلکہ اگر شوہر تنہائی میں بیٹھ کر اپنی بیوی کو طلاق دے، جس کا سوائے اللہ کی ذات کے کسی کو علم نہ ہو تو بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، بیوی کو علم ہونا بھی ضروری نہیں۔ البتہ اگر طلاق کے وقوع میں میاں بیوی کے درمیان اختلاف ہو جائے، بیوی طلاق کا دعوی کرے اور شوہر انکار کرے اور معاملہ عدالت تک پہنچ جائے تو عدالت میں شوہر کے طلاق دینے کو گواہوں سے ثابت کرنا عورت کی ذمہ داری ہے، کیونکہ قاضی غائب نہیں جانتا، اس لیے شوہر کے انکار کرنے پر عدالتی فیصلہ کے لیے گواہی کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ اگر حقیقتاً شوہر طلاق دے چکا ہو اور عدالت گواہ موجود نہ ہونے پر طلاق کے عدمِ وقوع کا فیصلہ کر دے تو بھی بیوی شوہر کے لیے حلال نہیں ہو گی اور فریقین کے درمیان ازدواجی تعلقات قائم کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہو گا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کا بیان واقعتاً درست ہے، جیسا کہ آپ کے حلفیہ بیان سے معلوم ہوتا ہے تو اس صورت میں جب آپ کے شوہر نے پہلی مرتبہ اپنی دوسری بیوی کو زبانی تین طلاقیں دیں تو اسی وقت بیوی حرام ہو چکی تھی اور فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی تھی، اس کے بعد آپ کے شوہر کا مذکورہ خاتون سے ملنا قطعاً جائز نہیں تھا، نیز پھر تین طلاقیں مزید دینا اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ مذاق اور توہین ہے، جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت تنبیہ کی گئی ہے، اس کے علاوہ طلاق دینے کے بعد انکار کرنا صریح جھوٹ اور غلط بیانی ہے، جو کہ حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔لہذا آپ کے شوہر پر لازم ہے کہ مذکورہ خاتون سے فوراً علیحدگی اختیار کر کے اس سے تعلق ختم کرے اور اپنے اس سابقہ عمل پر اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار کرے، نیز آئندہ کے لیے اس طرح کی حرکات سے مکمل اجتناب کرے۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»
سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (3/ 186، رقم الحدیث: 2025) دار الرسالة العالمية:
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن يزيد الرشك، عن مطرف بن عبد الله بن الشخيرأن عمران بن الحصين سئل عن رجل يطلق امرأته ثم يقع بها ولم يشهد على طلاقها ولا على رجعتها، فقال عمران: طلقت بغير سنة، وراجعت بغير سنة، أشهد على طلاقها وعلى رجعتها.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
25/ذوالقعدة 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


