| 80611.62 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میں ایک آنلائن ویب سائٹ پر کام کرتا ہوں، جس میں کام کا طریقہ کار یہ ہے کہ میں پہلے ہزار روپے ان کے اکاؤنٹ میں ڈالتا ہوں پھر وہ لوگ مجھے اپنی ویب سائٹ پر اکاؤنٹ بناکر دیتے ہیں، جس پر مجھے روزانہ پانچ سیکنڈکا ایک ایڈ دیکھنا ہوتا ہے، یہ ایک مہینے کا پیکج ہوتا ہےاور روزانہ کے حساب سے ایڈ دیکھنے کے سا ٹھ روپے بنتے ہیں اور مہینے مکمل ہونے کے بعد میرے اکاؤنٹ میں اٹھارہ سو روپے آجاتے ہیں ، اور اس پر کچھ سروس جارجز لگنے کے بعد بقایہ رقم میں اپنے کسی بھی بینک اکاؤنٹ سے نکلواسکتا ہوں،سوال یہ ہے کہ اس طرح کے کام سے حاصل شدہ آمدنی حلال ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایڈ پر کلک کرکے پیسے کمانے سے متعلق جتنی بھی ایپ موجود ہیں ان میں اجارہ کا معاملہ ہوتا ہے جو کہ درج ذیل وجوہات کی بنا پر جائز نہیں ہے:
- کام کے آغاز میں ہی فیس کے نام سے جو پیسے لئے جاتے ہیں، وہ رشوت ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔
- ویڈیوزدیکھنے والا ایک ہی شخص کئی مرتبہ ایک ہی کلپ کودیکھتا ہے، جس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ کلپس کو دیکھنے والے (viewers) بہت سے لوگ ہیں، جو اشتہار دینے والوں کی ریٹنگ (Raiting) بڑھانے میں معاون ہوسکتا ہے، یہ بات خلاف حقیقت ہونے کی وجہ سے دھوکہ دہی ہوگی، جوکہ جائز نہیں۔
- اشتہارات پر کلک کرنا کوئی مقصودی منفعت نہیں ہے،اس لئےیہ اجارہ درست نہیں ہے۔
- ان ویب سائٹس میں تشہیر کے لیے بساوقات یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ پہلے اکاؤنٹ بنانے والے کوہر نئے اکاؤنٹ بنانے والے پر کمیشن ملتا رہتا ہے، جب کہ اس نے اس نئےاکاؤنٹ بنوانے میں کوئی عمل نہیں کیا، اس بلا عمل کمیشن لینے کا معاہدہ کرنا اور اس پر اجرت لینا بھی جائز نہیں۔
لہذا اس طرح کی ویب سائٹ پر ایڈ دیکھ کر پیسے کمانا درست نہیں ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) 4/6
هي لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية.
سنن الترمذي ت بشار (2/ 597)
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: يا صاحب الطعام، ما هذا؟، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس، ثم قال: من غش فليس منا.
عدنان اختر
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
۲۱؍ذوالحجہ ؍۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عدنان اختر بن محمد پرویز اختر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


