| 80422 | نماز کا بیان | تکبیرات تشریق کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص تراویح کی نماز میں دورکعت کے بعد قعدہ میں نہیں بیٹھا بلکہ سیدھا کھڑا ہوگیا اس کے بعدتین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی بقدر کھڑا رہا پھر واپس قعدہ میں بیٹھ کر التحیات پڑھ کر سلام پھیر دیا ،سجدہ سہو نہیں کیا تو اس شخص کی نماز صحیح مکمل ہوئی ہے یانہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تراویح کی نماز میں اگر دورکعت پڑھنے کے بعد قعدہ کی بجائے بھولے سے مکمل کھڑا ہوگیا یا کحڑے ہونے کے قریب تھا پھریاد آگیا تودونوں صورتوں میں اس پر لازم ہے کہ واپس لوٹ کر پہلے التحیات پڑھ کر سجدہ سہو کرے اس کے بعد دوبارہ التحیات درود اور دعا کے بعد سلام پھیر ے ، ایسی صورت میں اگر سجدہ سہو نہیں کیا تو سجد ہ سہو ترک کرنے کی وجہ سے اس نماز کا لوٹانا واجب ہے ۔ یعنی ان دونوں رکعتوں کو دوبارہ پڑھے اور اس میں پڑھا ہوا قرآن بھی دوبارہ پڑھے،
حوالہ جات
. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 83)
(قوله أما النفل فيعود إلخ) جزم به في المعراج والسراج وعلله ابن وهبان بأن كل شفع منه صلاة على حدة ولا سيما على قول محمد بأن القعدة الأولى منه فرض فكانت كالأخيرة، وفيها يقعد وإن قام. وحكى في المحيط فيه خلافا، وكذا في شرح التمرتاشي، قيل يعود وقيل لا. وفي الخلاصة: والأربع قبل الظهر كالتطوع، وكذا الوتر عند محمد وتمامه في النهر، لكن في التتارخانية عن العتابية قيل في التطوع يعود ما لم يقيد بالسجدة والصحيح أنه لا يعود اهـ وأقره في الإمداد لكن خالفه في متنه تأمل.
(قوله ما لم يقيد بالسجدة) أي يقيد الركعة التي قام إليها (قوله عاد إليه) أي وجوبا نهر.
(قوله ولا سهو عليه في الأصح) يعني إذا عاد قبل أن يستتم قائما وكان إلى القعود أقرب فإنه لا سجود عليه في الأصح وعليه الأكثر. واختار في الولوالجية وجوب السجود، وأما إذا عاد وهو إلى القيام أقرب فعليه سجود السهو كما في نور الإيضاح وشرحه بلا حكاية خلاف فيه
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۵ ذی قعدہ ١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


