03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادائیگی
80470زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

دو یا تین سال کے بعد زکوٰۃ کیسے ادا کی جائےگی؟کیا پچھلے سالوں کے ریٹ کے مطابق زکوٰۃ ادا کی جائے گی یا  ہر سال کا الگ الگ حساب لگایا جائےگا،یا کرنٹ سال کے  ریٹ کے مطابق ادا کی جائے؟کیونکہ آج کل تو ریٹس میں بہت زیادہ ڈیفرینس آیا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

گزشتہ سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی کے لیے موجودہ ریٹ  کا اعتبار کیا جائے گا۔گزشتہ سالوں میں پہلے سال  جتنا مال (رقم، سامانِ تجارت وغیرہ) موجود تھا، اس کا اندازہ لگایا جائے، اور اس کے ڈھائی فیصد(کی موجودہ قیمت) کے حساب سے زکوۃ ادا کی جائے۔پہلے سال کی زکوۃ ادائیگی کے بعد بچ جانے والے مال نصاب تک پہنچے تو اس  مال کی ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ ادا کی جائے، اسی طرح دوسرے سال کی زکوۃ کی  رقم منہا کرنے کے بعد بچنے والا مال نصاب تک پہنچتا ہو تو تیسرے سال کی زکوۃ    ڈھائی فیصد کے حساب سے ادا کر دی جائے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع( (2/ 22

"وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 7)

إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة..............ولو كانت عشرا وحال عليها حولان يجب للسنة الأولى شاتان وللثانية شاة.

ولو كانت الإبل خمسا وعشرين يجب للسنة الأولى بنت مخاض وللسنة الثانية أربع شياه.

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

27/ذو القعدہ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب