03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈیوٹی کیےبغیرگورنمنٹ سےتنخواہ لینا
80433اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

ایک سیمی گورنمنٹ ادارہ جوکہ ورکرز ویلفئیربورڈکےنام سے معروف ہےاس کے ہیڈ میرےوالد صاحب ہیں۔ میری بھی وہاں جونئیرکلرک کی جگہ تعیناتی ہوئی ہے۔میں چونکہ طالب علم ہوں تو دورہ حدیث تک ڈیوٹی نہیں کرسکتا،یہ نوکری بڑی مشکل سےملتی ہے۔اب میں بغیرڈیوٹی کےتنخواہ کاحقدارہوں کہ نہیں ؟اورجہاں میری ڈیوٹی ہےوہاں کےہیڈ کی طرف سےمجھےرخصت ملی ہےتو اب اس کاکیاحکم ہوگا؟برائےمہربانی اپنی قیمتی رائےسے آگاہ فرمائیں۔

دوسرا سوال یہ ہےکہ میری والدہ کی بھی نوکری ہوئی ہےاسی اسکول میں ماسی کی اوروہ سکول بوائزکاہےاس میں ایک عورت بھی نہیں ہےتو میرےوالدصاحب اسی سکول میں پرنسپل ہیں وہ کہتےہیں کہ سکول آنےکی ضرورت نہیں ہےادھر ہی گھرکےکام کروتو جناب اس کاکیاحکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سرکاری ملازم کی حیثیت اجیرخاص کی ہے۔اجیر(ملازم)خاص اجرت کامستحق تب ہوتاہےجب وہ اپنےآپ کومقررہ مدت میں کام کےلیےسپرد کردے۔اگروہ  مقررہ اوقات میں اپنےآپ کوسپردنہیں کرتاتوایسی صورت میں اس کاتنخواہ لیناجائزنہیں ہے۔لہذامذکورہ دونوں صورتوں میں آپ اورآپ کی والدہ کےلیےڈیوٹی کیےبغیر تنخواہ لیناجائزنہیں ہے۔نیزوالدصاحب کابطورہیڈڈیوٹی نہ کرنےکی اجازت دینابھی درست نہیں ہے۔چنانچہ ان کی اجازت کےباوجودآپ اور آپ کی والدہ کےلیےتنخواہ لیناجائزنہیں ہوگا۔

اس کی متبادل صورت یہ اختیارکی جاسکتی ہےکہ آپ اورآپ کی والدہ ادارےکےہیڈ کی اجازت کےساتھ کوئی ایساآدمی اپنی جگہ مقررکریں جوگورنمنٹ کی طرف سےمقررکردہ آپ کی ذمہ داریوں کوپوراکرسکے۔اس کومعقول وظیفہ بھی دیں توایسی صورت میں آپ اورآپ کی والدہ کےلیےگورنمنٹ سےتنخواہ لیناجائزہوگا۔بشرطیکہ اس طرح کامتبادل رکھنےکی جوھیڈاجازت دےوہ قانوناً اس طرح متبادل کی اجازت دینےکامجازہو۔ورنہ غیرمجازھیڈکی اجازت سےمتبادل رکھنےکی صورت میں بھی تنخواہ جائزنہ ہوگی۔

حوالہ جات

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 265)

 (قوله: والأجير الخاص هو الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعمل كمن استأجر رجلا شهرا للخدمة، أو لرعي الغنم) وإنما سمي خاصا؛ لأنه يختص بعمله دون غيره؛ لأنه لا يصح أن يعمل لغيره في المدة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 69)

(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 70)

[مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة] (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة. (قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة

 محمدزمان

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 12-06-2023       

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد زمان بن مختار حسین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب