03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جمعہ اور عیدین کے لیے کتنی آبادی ضروری ہے؟
80524نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

جمعہ کی شرائط میں یہ ہے کہ شہر ہونا چاہیے، گاؤں میں جمعہ نہیں۔ تو اس کی تحدید کیا ہے کہ کتنی آبادی وغیرہ ہو تو جمعہ و عیدین جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حضراتِ حنفیہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی جگہ نمازِ جمعہ اور نمازِ عیدین کے جواز کے لیے اس جگہ کامصر، فناءِمصر یا قریۂ کبیرہ یعنی قصبہ ہوناضروری ہے۔

1۔۔۔ "مصر" کی تعریف حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے یہ مروی ہے:

روي عن أبي حنيفة هو بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق، وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره ويرجع الناس

 إليه فيما وقع لهم من الحوادث، وهذا هو الأصح.  (تحفة الفقهاء:1/ 162)

 "مصر" ایسا بڑا شہر ہوتا ہے جس میں مختلف گاؤں، محلے اور بازار ہوں، اور اس میں ایسا والی ہو جو علم وقوت کے ذریعے مظلوم کو ظالم سے انصاف دلانے پر قادر ہو اور لوگ پیش آمدہ حادثات  ومسائل میں اس کی طرف رجوع کرتے ہوں۔

اس کے علاوہ بھی "مصر" کی تعریف میں فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے مختلف اقوال مروی ہیں، لیکن اصولی بات یہ ہےکہ  اس کا مدارہرزمانے اور علاقےکے عرف پر ہے، کتبِ فقہ میں فقہائے کرام سے  جو تعریفیں منقول ہیں وہ اپنے اپنے عرف اور زمانہ کے مطابق کی گئی ہیں، چنانچہ عزیز الفتاویٰ (مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ، مفتی دارالعلوم دیوبند) میں علامہ انور شاہ صاحب کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ کا ایک جواب منقول ہے جس میں حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

 "ہمارے ائمہ احناف رحمہم اللہ سے جس قدر روایات مروی ہیں وہ سب متحد المعنی ہیں، اختلاف صرف لفظی اور تعبیری ہے۔۔۔۔۔۔حاصل یہ کہ مصر کی تعریف عرف اور لغت پر محمول ہے، اور جس قدر بھی تعریفیں مذکور ہیں وہ اپنے اپنے عرف اور زمانہ کے مطابق کی گئی ہیں، ان میں کوئی تعارض نہیں۔"  (عزیز الفتاوی:1/297)

ہمارے عرف میں کسی جگہ کو صرف آبادی کی بنیاد پر "مصر" یعنی شہر قرار نہیں دیا جاتا، بلکہ اس کی مجموعی ہیئت کو دیکھا جاتا ہے، اگر اس میں معتدبہ آبادی ہو، زندگی کی تمام ضروریات میسر ہوں، مختلف گلی، محلے اور گاؤں ہوں، مختلف تعلیمی ادارے اور حکومتی دفاتر وغیرہ ہوں تو اسے شہر کہا جاتا ہے۔

2۔۔۔ فناءِشہر سے مراد شہر سے متصل وہ جگہ ہے جس سےشہروالوں کی ضروریات وابستہ ہوں۔

3۔۔۔ "قصبہ" کی تعریف علامہ ظفر احمد عثمانی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے:-

"جہاں چار ہزارکےقریب یا اس سےزیادہ آبادی ہو،ایسا بازار موجودہو جس میں دُکانیں چالیس،پچاس متصل ہوں،اور بازار روزانہ لگتاہو،اوربازار میں ضروریات روز مرّہ کی ملتی ہوں، مثلاً: جوتہ کی دُکان بھی ہو، اور کپڑےکی بھی،عطّارکی بھی ہو بزاز کی بھی،غلّہ کی بھی اور دودھ گھی کی بھی، اور وہاں ڈاکٹر یاحکیم بھی ہوں، معمار و مستری بھی ہوں وغیرہ وغیرہ، اور وہاں ڈاکخانہ بھی ہو، اور پولیس کاتھانہ یاچوکی بھی ہو۔اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سےموسوم ہوں۔ پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں گے وہاں جمعہ صحیح ہوگا، ورنہ صحیح نہ ہوگا۔ (امدادالاحکام :1/ 756)

"امداد الاحکام" میں ذکر کردہ امور قصبہ کی رسم اور علامات ہیں، حد نہیں۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ کسی جگہ کو قصبہ قرار دینے کے لیے اس کی مجموعی ہیئت ایسی ہونی چاہیے کہ عرف میں اسے قصبہ شمار کیا جاتا ہو؛ کیونکہ قصبہ کی تعریف بھی عرف پر ہی مبنی ہے۔ اس لیے فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے آبادی کی کوئی متعین مقدار مقرر نہیں فرمائی، بلکہ بطورِ مثال ایک تعداد بیان فرمالیتے ہیں جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معتد بہ آبادی ہو اور اس جگہ کی مجموعی ہیئت ایسی ہو کہ اسے بڑا گاؤں کہا جاسکے۔ چنانچہ بعض فتاوی میں دو ڈھائی ہزار کی آبادی کو بھی اپنی مجموعی ہیئت اور ضروریاتِ زندگی دستیاب ہونے کی صورت میں قصبہ قرار دیا گیا ہے۔ (ملاحظہ فرمائیں: فتاویٰ رحیمیہ: 6/101۔ فتاویٰ دار العلوم دیوبند:5/57۔54۔55۔41۔ خیر الفتاویٰ: 3/41)

حوالہ جات

الهداية (1 / 82):

 لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر، ولا تجوز في القرى؛  لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع ".   

والمصر الجامع كل  موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود، وهذا عند أبي يوسف رحمه الله، وعنه أنهم إذا اجتمعوا فی أکبر مساجدهم لم یسعهم، والأول اختیار الکرخی وهو الظاهر، والثانی اختیار الثلجي، والحكم غير مقصور على المصلي، بل تجوز في جميع أفنية المصر؛ لأنها بمنزلته في حوائج أهله.

بدائع الصنائع (1/ 259):

ثم لا بد من معرفة حد المصر الجامع ومعرفة ما هو من توابعه. أما المصر الجامع فقد اختلفت الأقاويل في تحديده: ذكر الكرخي أن المصر الجامع ما أقيمت فيه الحدود ونفذت فيه الأحكام. وعن أبي يوسف روايات: ذكر في الإملاء: كل مصر فيه منبر وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود فهو مصر جامع تجب على أهله الجمعة،  وفي رواية قال: إذا اجتمع في قرية من لا يسعهم مسجد واحد بنى لهم الإمام جامعاً  ونصب  لهم  من  يصلي  بهم الجمعة، وفي رواية لو كان في القرية عشرة آلاف أو أكثر أمرتهم بإقامة الجمعة فيها.

 وقال بعض أصحابنا: المصر الجامع ما يتعيش فيه كل محترف بحرفته من سنة إلى سنة من غير أن يحتاج إلى الانتقال إلى حرفة أخرى. وعن أبي عبد الله البلخي أنه قال: أحسن ما قيل فيه إذا كانوا بحال لو اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعهم ذلك حتى احتاجوا إلى بناء مسجد الجمعة، فهذا مصر تقام فيه الجمعة. وقال سفيان الثوري : المصر الجامع ما يعده الناس مصرا عند ذكر الأمصار المطلقة. وسئل أبو القاسم الصفار  عن حد المصر الذی تجوز فیه    الجمعة     فقال : أن تکون لهم منعة لو جاء هم عدو قدروا علی دفعه، فحينئذ جاز أن يمصر وتمصره أن ينصب فيه حاكم عدل يجري فيه حكما من الأحكام، وهو أن   يتقدم إليه خصمان فيحكم بينهما. وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق، ولهارساتيق، وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح.

فتاوى قاضيخان (1/ 85):

الجمعة فريضة على الرجال الأحرار العاقلين المقيمين في الأمصار، ولا يكون الموضع مصراً في ظاهر الرواية إلا أن يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منی،

وكما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر، وفناء المصر هو الموضع المعد لمصالح المصر المتصل به.

رد المحتار (2/ 138):

قوله ( وفي القهستاني إلخ ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني: تقع فرضاً في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق.   

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       28/ ذو القعدۃ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب