| 80193 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
فاروق نے6بندوں کےسامنےی تسلیم کیاہےکہ وہ تین مرتبہ طلاق دےچکاہے۔جب ہم نےگواہوں سےپوچھاتو وہ بول رہےتھےکہ ہم نےدومرتبہ سناہےاوراس کےبعدفاروق کےبیان تبدیل ہوگئےکہ میں نےدومرتبہ طلاق دی ہے۔فاروق کےوالدنےبھی فاروق سےپوچھاکہ آپ نےحقیقت میں طلاق دی ہےتوفاروق نےبولاجی ہاں میں نےحقیقت میں طلاق دی ہے۔اورفاروق کادوست عبدالوحیدبھی یہی بول رہاہےکہ فاروق نےاس کے سامنےبھی بولاہےکہ میں نےتین مرتبہ طلاق دی ہے۔
وضاحت :موبائل پربات ہوئی توفاروق نےہمیں بھی بتایاکہ انہوں نےتین مرتبہ طلاق دی ہےالبتہ گواہوں اوربیوی نےدومرتبہ کےالفاظ سنے۔طلاق کےلیےیہ الفاظ بولےکہ"میں آپ کوطلاق دیتاہوں"یہ الفاظ تین مرتبہ بولے۔واضح رہےکہ فاروق کی گھروالی اس وقت حاملہ بھی ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شوہرکوشریعت نےناگزیرحالات مٰیں تین مرتبہ طلاق دینے کاحق دیاہے۔شوہر نےاگرکسی بھی مجلس میں اپنی بیوی کوتین مرتبہ طلاق دےدی توایسی صورت میں بیوی اس پرحرام ہوجاتی ہےخواہ بیوی نےطلاق کےالفاظ سنےہوں یانہ سنےہوں۔
صورت مسئولہ میں فاروق کےمطابق انہوں نے"میں آپ کوطلاق دیتاہوں"کےالفاظ سے اپنی بیوی کوتین مرتبہ طلاق دی ہے۔البتہ بیوی اورگواہوں نےدومرتبہ کےالفاظ سنےاورتیسری مرتبہ کےالفاظ نہیں سنے،توایسی صورت میں فاروق کی بیوی پرتین طلاق واقع ہوچکی ہیں۔نیزتین طلاق واقع ہوجانےکی وجہ سےوہ فاروق پرحرمت مغلظہ کےساتھ حرام ہوچکی ہیں۔لہذا فاروق کااپنی بیوی کےساتھ رہناشرعاًجائز نہیں ہے۔واضح رہےکہ حاملہ بیوی کوطلاق دینےسےبھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
حوالہ جات
[البقرة: 230]
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (230) }
المبسوط للسرخسي (6/ 9)
وأكثرهم على أن بيان الثالثة في قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] لأنه عند ذكرها ذكر ما هو حكم الثالثة، وهو حرمة المحل إلى غاية ومعناه فإن طلقها الثالثة ولا خلاف بين العلماء أن النكاح الصحيح شرط الحل للزوج الأول بعد وقوع الثلاث عليها.
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
محمدزمان
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد زمان بن مختار حسین | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


