| 78912 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال: اگرمیت(والد)کی وفات سےقبل کسی حصہ داربہن کی شادی ہوئی ہوتوکیاکوئی دوسراحصہ داربھائی وہ شادی کےاخراجات وراثت سےمنہاء کرسکتاہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والدکی زندگی میں بیٹےنےاگراپناذاتی مال بہن کی شادی میں لگایاتویہ بھائی کی طرف سےاحسان اورتبرع ہوگا،لہذا والدکی وفات کےبعد والدکی میراث سےیہ اخراجات منہا کرنا شرعاجائزنہیں۔
واضح رہےکہ بہن بھائیوں پر خرچہ کرنےمیں صدقہ کےساتھ ساتھ صلہ رحمی کاثواب بھی ملتاہےلہذاتبرع سمجھ کرثواب کی نیت کرنی چاہیے۔
حوالہ جات
"الجامع الصحيح سنن الترمذي" 3 / 17:
عن سلمان بن عامر يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإنه بركة فإن لم يجد تمرا فالماء فإنه طهور وقال الصدقة على المسكين صدقة وهي على ذي الرحم ثنتان صدقة وصلة۔۔۔
"تنقيح الفتاوى الحامدية " 4 / 4:
المتبرع لا يرجع على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره ا هـ .
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
16/جمادی الثانیہ 1444ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


