| 78914 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال: والدہ کی وراثتی زمین حصہ دار بھائی بیچ کروالدکی حیات میں والد کےمال کانقصان پوراکرےتوکیاوراثت والدکےمال میں ضم ہوجائےگی یاوہ وراثت برابرتقسیم کرکےاداکرنالازم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصولی طورپر پہلےوالدہ کی وراثتی زمین کو تقسیم کرنا چاہیےتھا،لیکن اگراس وقت وراثت تقسیم نہیں کی گئی توشرعاکسی ایک وارث کادیگرورثہ کی اجازت کےبغیر وراثتی مال میں تصرف کرناشرعاجائزنہیں،اگرکسی نےانفرادی طورپر تصرف کیا تووہ ذمہ دارہوتاہے۔
موجودہ صورت میں چونکہ والدکےمال کےنقصان کو پوراکیاگیاہےتواس کااندازہ لگایاجائےگاکہ والد کےمال میں والدہ کی میراث کی رقم کتنی استعمال ہوئی؟ اگراتنی ہی رقم استعمال ہوئی ہےجتناوالدہ کی میراث میں سےوالدکاحصہ بنتاتھاتووہ والدکی میرا ث میں ضم ہوجائےگی۔
اوراگروالدکےحصےسےزیادہ میراث کی رقم استعمال ہوئی مثلادیگرورثہ کی رقم بھی والدکےمال میں استعمال ہوگئی ہوتواس کےبقدررقم والدکےمال میں دین(قرض) شمارہوگی اوروفات کےبعدوالدکی میراث کی شرعی تقسیم سےپہلےوالدہ کےمیراث کی رقم(جس میں دیگرورثہ کابھی حصہ تھایعنی بیٹےاوربیٹیوں کی میراث جوبطورقرض تھی)تقسیم کی جائےگی، پھروالدکی میراث شریعت کےمطابق تقسیم ہوگی۔
ہاں اگروالدہ کی میراث جووالدکےمال میں استعمال ہوئی،اگرتمام ورثہ کی رضامندی سےاستعمال ہوئی تھی توپھریہ رقم والدکی میراث میں ضم ہوکرصرف والدکی میراث تقسیم کی جائےگی۔اس صورت میں والدہ کی میراث الگ سےتقسیم کرنےکی ضرورت نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
16/جمادی الثانیہ 1444ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


