| 78526 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک آدمی فوت ہواہے،اس نے تین شادیاں کی تھیں،پہلی بیوی سے ایک بیٹا ہے،پہلی بیوی کا انتقال خاوند سے پہلے ہوا ہے۔
دوسری بیوی کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں،دوسری بیوی کا انتقال بھی شوہر سے پہلے ہوگیا تھا،جبکہ تیسری بیوی کے چار بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں اور یہ بیوی حیات ہے۔
مرحوم کی جائیداد ضلع دیر،صوابی اور کراچی میں حاجی ابراہیم اور یثرب گوٹھ میں تھی،یہ مکمل جائیداد ان آٹھ بھائیوں نے آٹھ حصوں میں تقسیم کی،دوسری بیوی کی اولاد کا حصہ بڑے بھائی نے لے کر بیچا اور اپنی دونوں سگی بہنوں کو حصہ نہیں دیا،پوچھنا یہ ہے کہ ان بہنوں کا جائیداد میں حصہ ہے یا نہیں؟ اور بہنوں کو حصہ نہ دینے والے کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میرإث میں جس طرح مردوں کا حق اورحصہ متعین ہے بالکل اسی طرح اللہ تعالی نے عورتوں کا حصہ بھی متعین فرمایا ہے،چنانچہ فرمان باری تعالی ہے:
{لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا } [النساء: 7]
ترجمہ:مردوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،چاہے وہ(ترکہ)تھوڑا ہو یا زیادہ،یہ حصہ(اللہ کی طرف سے)مقرر ہے۔(آسان ترجمہ قرآن)
اس لئے میراث میں بھائیوں کا بہنوں کو ان کا حصہ نہ دیناغصب اور ظلم ہےاور ناحق دوسروں کا مال کھانے پر احادیث میں سخت وعیدوارد ہے،چنانچہ صحیح مسلم کی ایک روایت کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جو شخص(کسی کی) بالشت بھر زمین بھی ناحق لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پر ڈالی جائے گی۔
"صحيح مسلم "(3/ 1231):
"عن سعيد بن زيد، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".
اس لئے بھائیوں کے ذمے لازم ہے کہ وہ بہنوں کو ان کا حصہ حوالے کردیں ،ورنہ آخرت میں اس کا حساب دینا پڑے گا۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
23/جمادی الاولی1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


