| 79948 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ غلام جان کا 1977 میں انتقال ہوا۔انتقال کے وقت 6 بیٹے ، 5 بیٹیاں اور 2 بیویاں حیات تھیں۔ ایک بیوہ سے 3 بیٹے درمحمد، سید غلام،اور صالح محمداور دوسری بیوہ سے 3 بیٹے غنی الرحمن،محمد رحیم، تاج الدین اور 5 بیٹیاں تھیں ۔ سید غلام کا انتقال تقریبا 12 سال پہلے ہوا۔ انتقال کے وقت سید غلام کی ایک بیوہ، ایک بیٹی،دوسگے بھائی ، تین باپ شریک بھائی اور پانچ باپ شریک بہنیں حیات تھیں۔سید غلام کے انتقال کے ایک سال بعد در محمد کا انتقال ہوا ، جس کے بعد صالح محمد اور درمحمد کے بیٹوں نے سید غلام کی میراث تقسیم کی، جس میں مرحوم کی بیوہ اور بیٹی کو حصہ دیا اور بقیہ میراث صالح محمد اور در محمد کے بیٹوں نے آدھی آدھی تقسیم کرلی اور سید غلام کے باپ شریک بھائیوں اور بہنوں کو کچھ نہیں دیا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا سید غلام کی میراث میں باپ شریک بھائیوں کا حصہ ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کس تناسب سے؟نیز در محمد اور صالح محمد کے بیٹوں نے جو تقسیم کی ہے وہ شرعا درست ہے یا نہیں اگر درست نہیں تو صحیح تقسیم کیسے ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کردہ تفصیلات کے مطابق سید غلام کے انتقال کے وقت موجود ورثاء میں سے مرحوم کی بیوہ ، بیٹی اور سگے بھائی میراث کے حق دار ہیں۔ سگے بھائیوں کی موجودگی میں باپ شریک بھائیوں اور بہنوں کو میراث میں سے حصہ نہیں ملتا ہے۔سید غلام کی میراث درج ذیل طریقے سے تقسیم ہوگی ۔اگر سید غلام کی میراث جدول میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق تقسیم کی گئی ہے تو ٹھیک، ورنہ اس طریقے کے مطابق تقسیم کرکے سب ورثاء کو ان کاحق دیا جائے۔
|
نام ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
حصص شرعی |
|
بیوہ |
2 |
12.25% |
ثمن |
|
بیٹی |
8 |
50% |
نصف |
|
صالح محمد (بھائی) |
3 |
18.875% |
عصبہ |
|
در محمد(بھائی) |
3 |
18.875% |
عصبہ |
|
ٹوٹل |
16 |
100% |
|
حوالہ جات
{ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْف} [النساء: 11]
{فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ} [النساء: 12]
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 774)
(ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل)
عبدالقیوم
دارالافتاء جامعۃ الرشید
19/شعبان المعظم/1444
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالقیوم بن عبداللطیف اشرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


