| 80162 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
سوال:عدالت نے11فروری2023 کوفیصلہ جاری کیا،جس میں میں نے کہا تھا کہ میں اپنی بیوی کو رکھنا چاہتاہوں،چھوڑنانہیں چاہتا، اس کے بعد عدالت نے میرے اور میری بیوی کے سائن ایک خالی پیپر پر لے لیے کہ ہم نے آپ کے اسٹامپ پر لگانے ہیں، اور 4 گھنٹےکےبعد یہ پیپر ہمیں دئے کہ خلع ہو گیاہے، لڑکی نے میرے اوپر بہت الزام لگائےہیں، لیکن وہ گواہوں سے اس کوثابت نہ کر سکی ،اس کےباوجود عدالت نےفیصلہ اس کےحق میں دے دیا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرشوہرکابیان واقع کےمطابق ہےتوچونکہ شوہر نےبیوی کےالزامات کومستردکیاہےاور شوہربیوی کو رکھنےکےلیےبہر صورت تیار بھی ہے،لہذاایسی صورت میں شوہرکی رضامندی کےبغیر یک طرفہ عدالتی خلع شرعا معتبرنہیں،میاں بیوی کاسابقہ نکاح برقرارہے،بیوی پرلازم ہےکہ شوہرکےساتھ ہی رہے۔
اوراگرشوہرکےساتھ نہیں رہناچاہتی توشوہرسےطلاق لےیادوبارہ شوہرکی رضامندی سےخلع کامعاملہ کرےتوطلاق بائن کی وجہ سے نکاح ختم ہوسکتاہےورنہ نہیں ۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرة آیت 229 :
فان خفتم ألایقیماحدوداللہ فلاجناح علیہما فیماافتدت بہ۔
" الھندیة"1 /488 :
اذاتشاقا الزوجان وخافاأن لایقیما حدوداللہ فلابأس بأن تفدی نفسہا منہ بمال یخلعہا بہ۔
"زادالمعاد" 2/238 :وفی تسمیتہ صلی اللہ علیہ وسلم الخلع فدیۃ دلیل علی أن فیہ معنی المعاوضۃ ولہذااعتبرفیہ رضاالزوجین ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
29/شوال 1444ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


